کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 423
زہد ورقاق سوال: ہماری جماعت نے جوامام مسجد رکھاہے وہ خودنیک سیرت اورپارساہے لیکن اس کی بیوی کاچال چلن صحیح نہیں ہے اورنہ ہی اس کی اولاد اس کے کہنے پرچلتی ہے۔امام مسجدکوجوکچھ ملتا ہے وہ اپنے بچوں پرخرچ کردیتا ہے جوان کی غلط کاری پر تعاون کی ہی ایک صورت ہے۔ ایسے حالات میں اسے امام رکھاجاسکتا ہے ؟ جواب: سوال میں ذکرکردہ امام کی صفات کہ وہ نیک سیرت اورپارساہے۔امامت کے لئے کافی ہیں ،اس سے مزید کو کریدکرنادرست نہیں ہے ۔بیوی کاچال چلن اوراولادکا اس کے کہنے پرنہ چلنا،امامت کے علاوہ رکاوٹ کاباعث نہیں ہے ، اگرچہ اس قسم کے امام کوچاہیے کہ انہیں سمجھانے میں کوتاہی نہ کرے اوران کی خیرخواہی کرتارہے ۔دیوث بن کر زندگی نہ گزارے آخر حضرت نوح اور حضرت لوطe نے بھی اپنی بیویوں سے گزارہ کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں منصب نبوت سے الگ نہیں فرمایا۔ ہمیں بھی ایسے امام کوبرداشت کرناچاہیے اوراسے ’’منصب امامت ‘‘سے ہٹانے کے لئے تگ ودونہیں کرنی چاہیے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک آدمی نے دولاکھ روپے بنک میں رکھے ،اسے ایک سال دس ہزار سود ملا،اگرسود نہیں لیتا توبنک عملہ اسے بانٹ لے گا، لہٰذا وہ آدمی اپنی سود کی رقم کسی ایسے شخص کودے دیتا ہے جس کے لئے مردار اورخنزیرکھانابھی حلال ہے ، کیا ایسا کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ وہ آدمی سود کی رقم لینے کوبہت بڑاگناہ سمجھتا ہے؟ جواب: ہمارے نزدیک سودایک ایسی غلاظت ہے جس سے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ممکن طور بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔اسلام ہرپہلوسے اس نظام کااستیصال چاہتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی سنگینی کوبایں الفاظ بیان کیا ہے ’’اگرتم اس سے باز نہیں آؤ گے تواللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔‘‘ [۲/البقرہ :۲۷۸] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس گندے نظام سے نفرت دلائی ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا:’’سود دینے والاسودلینے والا،اس پرگواہی دینے والا، اسے لکھنے والا سب ملعون ہیں اوریہ سب گناہ میں برابرہیں ۔‘‘ [صحیح مسلم ،البیوع :۱۵۹۸] نیز آپ نے فرمایا کہ ’’اگر اس جرم عظیم کے ستر حصے کئے جائیں تو اس کا ہلکا حصہ بھی اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔‘‘ [ابن ماجہ، الطہارۃ:۲۲۷۴] بلکہ آپ نے سود کھانے کوچھتیس مرتبہ زناکرنے سے بھی زیادہ سنگین قراردیاہے۔ [مسندامام احمد ] لیکن ہم لوگ اس کے متعلق نرم گوشہ رکھے ہوئے ہیں کہ اسے بنک سے وصول کرلیناچاہیے ۔ پھر اس کی تین قسم بیان کی جاتی ہیں: 1۔ ثواب کی نیت کئے بغیر کسی محتاج یارفاہ عامہ میں خرچ کر دیا جائے۔