کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 421
مدافعت زیادہ ہوتی ہے وہ بیماری کامقابلہ کرکے اس سے محفوظ رہتے ہیں اورجن میں یہ قوت کم ہوتی ہے وہ بیماری کالقمہ بن جاتے ہیں۔ اس وضاحت کے بعد ہم مذکورہ سوال کاجائز ہ لیتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکارنہیں کیاجاسکتا کہ مغربی تہذیب کے علمبردار (یہودونصاریٰ )یہ نہیں چاہتے کہ مسلمان اعتقادی ،عملی اوراخلاقی ومالی اعتبارسے مضبوط ہوں ،وہ آئے دن انہیں کمزور کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں ۔ہمارے خیال میں ہیپاٹائٹس کے متعلق میڈیاپرشوروغل اورچیخ وپکاربھی مسلمانوں کو اعتقادی اورمالی لحاظ سے کمزورکرنے کاایک مؤثر اورسوچاسمجھامنصوبہ ہے ہم دیکھتے ہیں کہ جب سے اس کے متعلق غیرفطرتی چرچا شروع ہوا ہے ،گھروں میں کوئی نہ کوئی اس مرض کاشکار ہے۔ایک گھر میں رہتے ہوئے بھائی ،بہن ،بیٹا،باپ ،ماں اوربیوی خاوند اس اچھوت میں مبتلا ہوگئے ہیں، پہلے تواس کے ٹیسٹ بہت مہنگے ہیں ہزاروں روپیہ ان کی نذر ہوجاتا ہے پھراس کاعلاج اس قدر گراں ہے کہ عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ جوگھر کے باشندے اس مرض سے محفوظ ہیں انہیں حفاظتی تدابیرکے چکر میں ڈال کر پھانس لیاجاتاہے ۔حفاظتی ٹیکے بہت مہنگے اوربڑی مشکل سے دستیاب ہوتے ہیں۔ عوام کوخوفزدہ کرنے کے لئے یرقان کانام بدل کرہیپاٹائٹس کانام رکھ دیاگیا ہے ۔یہ مرض پہلے بھی موجودتھی لیکن اس کے جراثیم دیکھے نہیں جاسکتے تھے اس لئے نفسیاتی طور پر لوگوں کوآرام اورسکون تھا ۔جب سے خوردبینی آلات ایجاد ہوئے ہیں توہیپاٹائٹس ،اے ،بی ،سی دریافت ہوا۔ہماری معلومات کے مطابق ڈی بھی دریافت ہوچکا ہے اس کے متعلق تحقیق وریسرچ جاری ہے ۔ہمارے خیال کے مطابق مسلمانوں کے عقائد اوران کی مالی حالت کوکمزورکرنے کایہ مغربی پروپیگنڈاہے ،جس کی وجہ سے ہم توہم پرستی کاشکارہوگئے ہیں اورعلاج اس قدر مہنگا ہے کہ ہم قرض پکڑکر اس کا علاج کراتے ہیں ،ان حالات کے پیش نظر ہماراسائل کومشورہ ہے: 1۔ اللہ تعالیٰ پر اعتقاداوریقین رکھتے ہوئے حسب پروگرام شادی کردی جائے ۔اس پروپیگنڈے سے خوفزدہ ہوکر اسے معرض التوامیں ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ 2۔ اگروالدین اس قدر پریشان ہیں کہ انہوں نے طے شدہ پروگرام کوختم کرنے کاارادہ کرلیا ہے توہمارے نزدیک یہ گناہ ہے کیونکہ ایساکرناصلہ رحمی کے خلاف ہے اورمغربی اثرات سے متاثر ہونابھی مسلمانوں کی شان کے خلاف ہے۔ 3۔ اگروالدین اس پروپیگنڈے سے متاثر ہیں توطے شدہ تاریخ پرنکاح کردیاجائے لیکن رخصتی کوملتوی کردیاجائے تاآنکہ بچے کاعلاج مکمل ہوجائے اوربچی کوبھی حفاظتی ٹیکے لگادیئے جائیں۔ 4۔ موت کاایک وقت مقرر ہے، اس کاوقت آنے پر ہرانسان دنیاسے رخصت ہوجائے گا،جدیدطب کے مطابق متعدی امراض سے وہی متاثر ہوتا ہے جس کے اندربیماری قبول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔اگربیماری مقدر میں ہے تووہ آکر رہے گی ۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ بچے کاعلاج کرایاجائے ،بچی کوحفاظتی ٹیکے لگادیئے جائیں اورصلہ رحمی کے پیش نظر سنت نکاح بر وقت اداکردی جائے۔اللہ تعالیٰ ہمارے عقائد کومحفوظ رکھے اوراچھے اخلاق کامظاہر ہ کرنے کی توفیق دے ۔ [واللہ اعلم]