کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 420
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پہلے اونٹ کوخارشی کس نے بنایا تھا۔‘‘ [صحیح بخاری ،الطب:۵۷۷۵] آپ کایہ جواب انتہائی حکمت بھراتھا کیونکہ اگروہ جواب دیتا کہ پہلے اونٹ کوبھی کسی دوسرے اونٹ سے خارش کی بیماری لگی تھی تویہ سلسلہ لامتناہی ہو جاتا اور اگر یہ جواب دیتا کہ جس ہستی نے پہلے اونٹ کوخارشی بنایا اسی نے دوسرے میں خارش پیداکردی تویہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے تمام اونٹوں میں یہ فعل جاری کیاہے کیونکہ وہ ہرچیز پرقادرہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے علم سے بھی اس جاہلانہ عقیدہ کی بیخ کنی کی ہے۔ چنانچہ آپ نے ایک مجذوم، یعنی کوڑھی کاہاتھ پکڑااوراسے اپنے ساتھ کھاناکھلانے کے لئے اپنے پیالہ پر ہی بٹھالیا اورفرمایا :’’اللہ تعالیٰ پرتوکل کرتے ہوئے اوراس کانام لے کر کھاؤ۔‘‘ [ترمذی :۱۸۱۷] صدیقہ کائنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیرت طیبہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے، چنانچہ ایک غلام کوڑھ کی مرض میں مبتلاتھا وہ آپ کے برتنوں میں کھاتا اورآپ ہی کے پیالہ میں پانی پیتا اوربعض دفعہ آپ کے بستر پرلیٹ بھی جاتا تھا۔ [فتح الباری،ص :۱۹۷،ج۱۰ ] ان احادیث وواقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے امراض کے وبائی طورپرلگ جانے کی نفی فرمائی ہے ۔البتہ ان کے بالاسباب متعدی ہونے کااثبات فرمایا ہے، یعنی اصل موثر حقیقی تواللہ کی ذات گرامی ہے اوراس نے بعض ایسے اسباب پیداکئے ہیں جن کے پیش نظر امراض معتدی ہو جاتے ہیں، جیساکہ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ نے امراض کے ذاتی طورپرمتعدی ہونے کی نفی فرمائی توحدیث کے آخر میں فرمایا کہ ’’مجذوم، یعنی کوڑھی انسان سے اس طرح بھاگوجس طرح شیرسے بھاگتے ہو۔‘‘ [صحیح بخاری ،الطب :۵۷۰۷] نیزآپ نے ضعیف الاعتقاد لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے ایسافرمایاکہ اللہ کی تقدیر کے سبب بیماری لگ جانے سے ان کے عقیدہ میں مزیدخرابی نہ پیداہوکہ وہ کہنے لگیں: ’’ہمیں تو فلاں شخص سے بیماری لگی ہے ‘‘حالانکہ بیماری لگانے والااللہ ہے۔ اس موقف کی تائید ایک روایت سے ہوتی ہے کہ جب آپ نے امراض کے متعدی ہونے کی نفی فرمائی توآخرمیں فرمایا:’’بیماراونٹوں کو تندرست اونٹوں کے پاس مت لے جاؤ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الطب :۵۷۷۱] امراض کے بالاسباب متعدی ہونے اورضعیف الاعتقاد لوگوں کے عقائد کی حفاظت کے پیش نظر آپ نے فرمایا: ’’جس علاقہ میں طاعون کی وباپھیلی ہووہاں مت جاؤ اوراگرتم وہاں رہائش رکھے ہوئے ہوتوراہ فرار اختیارکرتے ہوئے وہاں سے مت نکلو۔‘‘ [صحیح بخاری ،الطب :۵۷۳۰] امراض کے بالاسباب متعدی ہونے میں بھی اس بات کاخیال رکھناچاہیے کہ اصل مؤثرحقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہے ضروری نہیں ہے کہ سبب کی موجودگی میں بیماری بھی آموجودہوکیونکہ بسااوقات ایساہوتا ہے کہ سبب موجودہوتا ہے لیکن بیماری نہیں آتی،بیماری کاآنایانہ آنااللہ تعالیٰ کی مشیئت پرموقوف ہے اگروہ چاہے توسبب کومؤثر کرکے وہاں بیماری پیداکردے ، اگر چاہے توسبب کوغیرمؤثر کرکے وہاں بیماری پیدانہ کرے۔ [فتح الباری، ص: ۱۹۸، ج۱۰] اس بات کا ہم خودبھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ جس علاقہ میں وبائی امراض پھوٹ پڑتی ہیں وہاں تمام لوگ ہی اس کاشکار نہیں ہوجاتے بلکہ اکثروپیشتر ان کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔ طبی لحاظ سے اس کی تعبیر یوں کی جاسکتی ہے کہ جن لوگوں میں قوت