کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 419
پھر ایساکرنے سے تبلیغ وغیرہ کابھی موقع ملتا ہے کہ اگروہ ننگے سرہوتو سمجھایا جاسکتا ہے ۔شریعت نے معاشرہ میں رائج ’’معروف ‘‘ کو بہت حیثیت دی ہے، اس لئے اسے جائز ہوناچاہیے ،پھر ایسے موقع پرکسی قسم کے منفی جذبات ابھرنے کاموقع بھی نہیں ہوتا۔ جن کے پیش نظر اسے ممنوع قراردیاجاسکے، اگر اندیشہ ہوتواس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مؤخرالذکرحدیث کاتعلق ایسے حالات سے ہے جب ہاتھ لگانے والا دل کاکوڑھ اورنیت میں فتوررکھتا ہو۔ہم نے انتہائی دیانتداری کے ساتھ فریقین یعنی مانعین اور مجوزین کے دلائل قارئین کے سامنے رکھ دیئے ہیں ،ہمارارجحان یہ ہے کہ تقویٰ اورپرہیزگاری کے پیش نظر اس سے اجتناب کیا جائے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے عمر رسیدہ عورت کوپردہ کے سلسلہ میں کچھ نرمی دی ہے اس کے باوجود فرمایا ہے کہ ’’اگروہ اس نرمی کو استعمال کرنے سے پرہیز کریں تویہی بات ان کے حق میں بہتر ہے ۔‘‘ [۲۴/النور:۶۰] البتہ مجوزین حضرات کے موقف کوبالکل نظرانداز نہیں کیاجاسکتا اس کے پیش نظر اگرکوئی برخوردارعمررسیدہ خاتون کے سامنے سرجھکادے یاکوئی برخورداری اپنے کسی بزرگ کے سامنے پیار لینے کے لئے اپناسرآگے کردے توان کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے، البتہ مسئلہ کی صحیح صورت حال سے انہیں ضرورآگاہ کر دیاجائے ۔ہمارے بعض خاندانوں میں ایسے موقع پرگلے ملنے کارواج ہے لیکن اس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح سرپرہاتھ پھیرتے وقت اگرکسی قسم کی شہوانی تحریک پیداہونے کا اندیشہ ہوتوبھی اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ [واللہ اعلم] سوال: میرے بھانجے کی شادی میری بھتیجی کے ساتھ ہوناطے پائی ،منگنی وغیرہ تین سال قبل ہوچکی ہے جبکہ نکاح ۲۲دسمبر ۲۰۰۴ء کومتوقع ہے۔شو مئی قسمت سے میرے بھانجے نے ازراہ ہمدردی کسی کواپناخون دینے کاارادہ کیا،جب خون چیک کرایا تو پتہ چلا کہ اسے ہیپاٹایٹس سی کامرض ہے کچھ ڈاکٹر حضرات کی رائے ہے کہ بھانجے کی شادی ا س بھتیجی سے نہ کی جائے ،کیونکہ شادی کے بعد بیماری کے جراثیم بھتیجی میں منتقل ہوسکتے ہیں اوراس کے لئے جان لیواثابت ہوسکتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر بھتیجی کے والدین اس شادی سے خوف زدہ ہیں کہ اس کے نکاح سے ہماری بیٹی زیادہ متاثر ہوگی ،شادی نہ ہونے سے یہ بھی اندیشہ ہے کہ وہ قریبی رشتہ داروں کے درمیان جدائی اورقطع تعلقی پیداہوجائے۔ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں دونوں خاندانوں کی صحیح راہنمائی فرمائیں آپ کے جواب کا شدت سے انتظار ہے؟ جواب: دورجاہلیت میں توہم پرستی عام تھی ،یعنی بیماریوں کے متعلق ان کاعقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے حکم سے بالا بالاذاتی اورطبعی طورپر معتدی ہیں گویا وہ اڑکردوسروں کوچمٹ جاتی ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عقیدہ کاابطال کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الطب :۵۷۷۲] اس حدیث میں واضح مفہوم یہ ہے کہ کوئی بیماری طبع کے اعتبار سے دوسروں کو نہیں لگتی ، بلکہ اللہ کے حکم اوراس کی تقدیر سے دوسروں کولگتی ہے، جیساکہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دورجاہلیت کے عقیدہ فاسد کی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی۔‘‘ توایک اعرابی کھڑاہوکرعرض کرنے لگا: ہمارے اونٹ ریتلے میدان میں ہرنوں کی طرح ہوتے ہیں جب ان کے ہاں کوئی خارشی اونٹ آجاتا ہے توسب اونٹ خارش زدہ ہوجاتے ہیں، اس کے جواب میں رسول