کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 418
ان آخری دونوں صورتوں کے متعلق مختلف علما سے رابطہ کرنے کے بعد دوموقف سامنے آئے ہیں: 1۔ ایساکرناجائز نہیں ہے کیونکہ شریعت میں اس کاثبوت نہیں۔ 2۔ ایساکرناجائز ہے کیونکہ شریعت نے اس سے منع نہیں کیا۔ فریقین کے دلائل پیش کرنے کے بعد آخر میں ہم اپناموقف بیان کریں گے ۔جوحضرات اسے ناجائزقراردیتے ہیں ان کاکہناہے کہ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں ۔آپ نے کبھی کسی بالغ بچی کے سرپرہاتھ نہیں پھیرا حالانکہ آپ تمام لوگوں میں زیادہ پرہیزگار اوراللہ سے ڈرنے والے تھے۔ نیز وہ امت کے لئے روحانی باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ بعض مواقع پر آپ نے ایسے ارشادات فرمائے ہیں جن کے عموم سے پتہ چلتا ہے کہ ایساکرناجائز نہیں ہے، مثلاً: (الف) عورتوں سے بیعت لیتے وقت بعض خواتین کی طرف سے خواہش کا اظہار ہوا کہ یارسول اللہ! آپ ہم سے مصافحہ کیوں نہیں کرتے تو آپ نے فرمایا: ’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔‘‘ [مسندامام احمد، ص: ۳۵۷، ج۶] جب بیعت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے نہیں لگاتوعام آدمی کے لئے عورتوں کے سرپرہاتھ پھیرناکیونکر جائز ہوسکتا ہے جبکہ یہ آدمی اس کے لئے اجنبی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ (ب) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کوچھواتک نہیں۔ [صحیح بخاری ،الشروط:۲۷۱۳ ] جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوخیرالبشر ہیں قیامت کے دن اولادآدم کے سردارہوں گے ان کے مبارک ہاتھوں نے کسی عورت کے ہاتھ کوچھواتک نہیں تودوسرے غیرمردوں کے لئے کس طرح اجنبی عورتوں کے سرپرہاتھ پھیرنا جائز ہوسکتا ہے ۔ (ج) جوعورت مرد کے لئے حلال نہیں ہے اسے ہاتھ لگانابہت سنگین جرم ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اگر آدمی کے سرمیں نوک دارلوہے سے سوارخ کردیاجائے تویہ اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کوہاتھ لگائے جوا س کے لئے حلال نہیں ہے۔‘‘ [ترغیب وترہیب، ص: ۳۹،ج۳] امام منذری رحمہ اللہ نے اس روایت کو بیہقی اورطبرانی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ طبرانی کے راویوں کوصحیح کے راوی قرار دیا ہے۔ اسی طرح علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کوامام رویانی کے حوالہ سے بیان کیا ہے اوراس پرصحیح ہونے کاحکم لگایا ہے۔ [الاحادیث الصحیحۃ :۲۲۶] اس حدیث کی روسے بھی اجنبی عورت کوہاتھ لگانے کی حرمت ثابت ہوتی ہے، البتہ کسی ناگہانی ضرورت کے پیش نظرعورت کوہاتھ لگانے میں چنداں حرج نہیں، مثلاً: بیماری کی حالت میں ڈاکٹر یاطبیب کانبض دیکھنا یامکان میں آگ لگنے کی صورت میں اسے پکڑ کر مکان سے باہر نکالنا، لیکن پیاردیتے وقت اس کے سرپرہاتھ لگاناکوئی حقیقی ضرورت نہیں۔جوحضرات بزرگوں کے لئے اجنبی عورت کو پیار دینے کے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کے پاس کوئی نقلی دلیل نہیں ہے ،البتہ وہ عقلی اعتبار سے کہتے ہیں کہ یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو معاشرہ کے رسم و رواج سے تعلق رکھتا ہے۔ چونکہ شریعت نے اس سے منع نہیں کیا،اس لئے ایساکرناجائز ہے،