کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 414
عنہا سے فرمایاکہ ’’تم میرے ساتھ دوڑمیں مقابلہ کرو۔‘‘اس وقت آپ پہلے واقعہ کوبھول چکی تھیں اورجسم بھی فربہ ہو چکا تھا، فرمانے لگیں کہ میں اس حالت میں کیسے دوڑ سکتی ہوں ،آپ نے فرمایا کہ ’’ایسانہیں ہوسکتا آپ کودوڑ میں شریک ہونا ہو گا۔‘‘ چنانچہ میں نے آپ سے دوڑ میں مقابلہ کیاتوآپ آگے بڑھ گئے اورمیں پیچھے رہ گئی، آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ’’میں نے پہلے مقابلے کابدلہ چکا دیا ہے۔‘‘ [مسند امام احمد، ص: ۲۶۴، ج۶] واقعہ بیوی خاوند کے درمیان پیش آیا ،اسے اوپن مقابلوں میں عورت کے شریک ہونے کے لئے کیونکر بنیاد بنایا جا سکتا ہے، اس سے مقصوداچھے انداز میں معاشرتی زندگی کی تکمیل اورمیاں بیوی کے درمیان محبت والفت کاحصول تھا۔اس بنا پر اس واقعہ سے اس جیسے عمل کے لئے ہی استدلال لیا جا سکتا ہے، تاہم دین میں اتنی تنگی نہیں ہے کہ اگرعورتوں نے تفریح طبع کے طورپر کھیلنا ہے تو اس کے لئے درج ذیل پابندیوں کوپیش نظر رکھناہوگا : ٭ مقابلہ خواتین کے مابین ہواورانہیں دیکھنے والی بھی عورتیں ہی ہوں۔ ٭ عورتوں کی جسمانی ساخت کے پیش نظر وہ ہلکی پھلکی کھیل میں حصہ لیں جس سے ان کی نسوانیت اوروقار مجروح نہ ہو۔ ٭ مقابلہ اوپن نہیں ہوناچاہیے تاکہ وہ کسی قسم کافتنہ فساد انگیزی کاباعث نہ ہو۔ لیکن آج کل عورتیں نیکریں پہن کراپنے قابل سترحصوں کونمایاں کرکے کھیلوں میں شریک ہوتی ہیں، پھراس مقابلے کو ٹی وی پر نشر کیاجاتاہے ،مردحضرات اسے دیکھتے ہیں بلکہ میدان مقابلہ میں موجودہوتے ہیں ،ان کھیلوں سے ان کی نسوانیت بھی مجروح ہوتی ہے ،ایسے حالات میں عورتوں کاکھیلوں کے مقابلہ میں حصہ لیناحرام اورناجائزہے ۔اس قسم کی مقابلہ بازی سے انہیں باز رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ شروفسادکادروازہ نہ کھلے ۔ [واللہ اعلم] سوال: عورت کااپنے محرم رشتہ داروں، مثلاً: خاوند، بھائی، بیٹااورباپ وغیرہ سے ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا شرعاً کیسا ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میںجواب دیں۔ جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں ہے کہ آپ عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتے تھے ،چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے فرمایا کہ ’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔‘‘ [نسائی، بیعہ: ۱۸] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا ،آپ صرف زبانی طورپر بیعت لیتے تھے ۔ [صحیح مسلم ، الامارات : ۸۸] مصافحہ کرنے کے متعلق مذکورہ پابندی صرف غیرمحرم عورتوں سے متعلق ہے، کیونکہ ان سے مصافحہ کرنادونوں جانب فتنہ وفساد کے اسباب پیداکرنے کا ذریعہ ہے۔البتہ عورتوں کاعورتوں اورمحرم رشتہ داروں، مثلاً: باپ، بیٹا،بھائی اورخاوندوغیرہ سے مصافحہ کرنا تو اس میں چنداں حرج نہیں ہے، کیونکہ جب بیوی اوربیٹی کا بوسہ لیاجاسکتا ہے توان سے مصافحہ کرنابالاولیٰ جائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیویوں کابوسہ لیناثابت ہے۔ [صحیح بخاری ،الصوم:۱۹۲۹]