کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 412
ساتھ اپنے دین کی تعلیم دینی چاہیے۔ ان سے بے رخی اختیار کرناکسی صورت بھی صحیح نہیں ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایاتھا ’’اے اللہ !میری قوم کوہدایت فرمایہ اس کی قدروقیمت سے ناآشناہیں۔ ‘‘ [واللہ اعلم] سوال: ایک عورت جونماز پانچگانہ پابندی سے اداکرتی ہے اورباقاعدہ تلاوت قرآن بھی کرتی ہے، لیکن ہروقت اسے فلمی گانوں کا جنون رہتا ہے۔اس کے علاوہ ٹی وی پرفلم اورڈرامہ دیکھنے کابھی شوق رکھتی ہے ، اپنے سسرال کے ساتھ اچھا سلوک نہیں رکھتی بلکہ طیش میں آکربعض اوقات وہ اپنے خاوند کوبھی گالیاں دیتی ہے ،اس کی اجازت کے بغیر وہ گھر سے باہر سیرو تفریح کے لئے چلی جاتی ہے۔ایسی عورت کے متعلق شریعت مطہرہ کاکیاحکم ہے ؟ جواب: قرآن کریم نے نماز کے بہت سے اوصاف میں سے ایک وصف بایں الفاظ بیان کیا ہے :’’یقینانماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے ۔‘‘ [۲۹/العنکبوت :۴۵] یعنی نماز کاوصف لازم یہ ہے کہ وہ نمازی کواخلاقی برائیوں سے روکتی ہے اوروصف مطلوب یہ ہے کہ اسے اداکرنے والا فحش اوربرے کاموں سے رک جائے ۔اب رہایہ سوال کہ آدمی نماز کی پابندی کرنے کے باوجود عملاً برائیوں سے باز کیوں نہیں آتا ،جیسا کہ صورت مسئولہ میں اس کاذکر کیاگیا ہے تواس بات کاانحصار خوداس شخص پر ہے جونماز پڑھتے وقت اصلاح نفس کی تربیت لے رہا ہے ۔اگروہ اس سے فائد ہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تونماز کے اصلاحی اثرات اس پرضرور مرتب ہوں گے اوراگروہ اس کے برعکس اس کااثر قبول کرنے کے لئے آمادہ ہی نہیں یادانستہ اس کی تاثیر کودفع کرتا ہے توایسے بدبخت کی شقاوت میں کیاشک ہے ۔نماز کی قبولیت کایہ ایک معیار ہے کہ نماز پڑھنے کے بعد انسان برائی کرنے سے رک جائے ، ایسے حالات میں یقینااس کی نماز اللہ کے ہاں شرف قبولیت سے نوازی گئی ہے ۔سوال میں ذکر کردہ نماز اورتلاوت قرآن کے علاوہ دیگرتمام کام ناجائز اورحرام ہیں ۔ایسے حالات میں خاوند کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی بیوی کو احسن انداز سے وعظ و نصیحت کرے اورگھر میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات کواستعمال کرے اوراصلاح احوال کی کوشش کرے۔ اس مقام پریہ سوال پیداہوتا ہے کہ گھرمیں ٹی وی کون لایا ہے؟یہ زہرآلود پوداخاوند کاخودکاشت کردہ ہے، اگروہ اسے گھر میں نہ لاتا تو اس تلخ حقیقت کاخطرہ دیکھنے سے محفوظ رہتا، پھر وہ عورت یہ سب برے کام خاوند کے سامنے کرتی ہے آخر وہ کس مرض کاعلاج ہے، عین ممکن ہے کہ خاوند خودبھی ایسی باتوں کا عادی ہواور اس کے نقش قدم پرچلتے ہوئے بیوی میں یہ عادات بدپڑگئی ہوں ۔قرآن کریم کی اس نصیحت پرعمل کرناچاہیے: ’’اے ایمان والو !اپنے آپ کو اوراپنے اہل وعیال کوآتش جہنم سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اورپتھر ہیں ۔‘‘ [۶۶/التحریم:۶] ان حالات کے پیش نظر خاوندکوچاہیے کہ وہ خوداپنی اور اپنی بیوی کی اصلاح کی طرف توجہ دے اور اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کااحساس کرے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہمارے ہاں دونئے کام شروع ہوچکے ہیں، یعنی اجتماعی اعتکاف کے لئے درخواستیں وصول کی جاتی ہیں اور طاق راتوں میں وعظ ونصیحت کی مجالس کااہتمام کیا جاتا ہے۔ اس اجتماعی اعتکاف اوراجتماعی مجالس کی شرعی حیثیت کیاہے؟ جواب: اعتکاف کامطلب یہ ہے کہ آدمی عبادت کے لئے رمضان کے آخری دس دن عبادت میں گزارے اوریہ دن اللہ کے