کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 408
شریعت کام کرنے سے روکتا ہے ،بدیں وجہ چند لوگ اورخطیب اس کے خلاف محاذ بنالیتے ہیں اوراسے پریشان کرتے ہیں، نیز بلا وجہ اس پربدکاری اورچندہ خوری کاالزام لگاتے ہیں ،ایسے لوگوں کے متعلق شریعت کاکیاحکم ہے؟ جواب: بشرط صحت سوال واضح ہوکہ بلاوجہ کسی مسلمان کوتکلیف دیناحرام اورکبیرہ گناہ ہے، بالخصوص بدکاری کاالزام توانتہائی سنگین جرم ہے۔اس قسم کے لوگ بدعمل مسلمان ہیں، لیکن انہیں ان جرائم کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جا سکتا حدیث میں ہے کہ ’’مسلمان کوگالی دیناگناہ اوراسے قتل کرناکفرہے۔‘‘ [صحیح بخاری ،الایمان:۴۸] اس حدیث میں لفظ کفرکبیرہ گناہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ قرآن پاک میں مسلمانوں کے گروہوں کوآپس میں لڑنے کے باوجود انہیں مؤمن قراردیاگیاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگرایمان والوں کے دوگروہ آپس میں لڑپڑیں توان میں صلح کرادو۔‘‘ [۴۹/الحجرات: ۹] اس بنا پربعض مقتدی حضرات اورخطیب صاحب کاعمل اگرچہ بہت سنگین ہے، لیکن اس وجہ سے انہیں دائرہ اسلام سے خارج کرناصحیح نہیں ہے ۔انہیں چاہیے کہ آپس میں ایثاراورہمدردی کی فضاپیداکریں اورباہمی صلح واتفاق سے مسجد کے انتظام کوچلائیں اورایک دوسرے پرناجائز الزامات لگانے سے پرہیز کریں اورنیزمتولی مسجد کوچاہیے کہ وہ بردباری اورتحمل مزاجی کا مظاہر ہ کرے اورکسی کی خامی یاکوتاہی کوبرسرعام نشرکرنے کے بجائے علیحدگی میں انہیں سمجھانے کی روش اختیار کرے۔ [واللہ اعلم] سوال: اگر کوئی زانی شرعی سزاکے بغیرتوبہ کرے تو کیااس طرح گناہ کی تلافی ہوجاتی ہے؟ جواب: واضح رہے کہ گناہ دوطرح کے ہوتے ہیں، صغائر اورکبائر، صغیرہ گناہوں کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگرتم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیاجارہاہے توہم تمہاری چھوٹی چھوٹی برائیوں کوتمہارے حساب سے ساقط کردیں گے۔‘‘ [۴/النسآء:۳۱] اس آیت کریمہ کامطلب یہ ہے کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے سے چھوٹے موٹے گناہ خودبخودمعاف ہوجاتے ہیں۔ احادیث میں ہے کہ وضو کرنے اورنمازپڑھنے سے بھی ایسے گناہوں کی تلافی ہوجاتی ہے، البتہ کبیرہ گناہوں کامعاملہ ان سے ذرا مختلف ہے۔ ان میں سے بعض کاتعلق حقوق اللہ سے ہوتا ہے، ایسے گناہ توسچی توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں اوربعض کبیرہ گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کے ارتکاب پرحدجاری ہوجاتی ہے، ان کی پھر دواقسام ہیں: پہلی یہ کہ ان کاتعلق حقوق العباد سے بھی ہوتا ہے، جیسے چوری وغیرہ ایسی صورت میں حد کے ساتھ جومال چرایا ہے اسے بھی واپس کرناہوگا۔ دوسری قسم یہ ہے کہ ان کاتعلق بندوں کے حقوق سے نہیں ہوتا ،جیسے شراب پیناایسے گناہوں کے ارتکاب پرحد کااجرا ضروری ہوتا ہے۔اوریہ حدہی اس گناہ کاکفارہ بن جاتی ہے۔ اگرحد کے نفاذ کاموقع نہیں دیاجاتاتومعاملہ اللہ کے سپرد ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس شخص نے ایسے گناہ کاارتکاب کیاجس پر حد ضروری ہے اوراس پر حد جاری کردی گئی تویہی اس کے گناہ کاکفارہ ہے ۔بصورت دیگر معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔‘‘ [ابن ماجہ کتاب الحدود، ۲۶۰۳]