کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 403
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے بھی مصافحہ کی مشروعیت کوثابت کیا ہے۔ ٭ اس باب کی آخری حدیث میں حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کاہاتھ تامے ہوئے تھے ۔ [حدیث :۶۲۶۴] اس حدیث میں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک ہاتھ کاذکر ہے ،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نہ مصافحہ کابیان ہے نہ ہی اس میں ملاقات کے وقت مصافحہ کا ذکر ہے۔ اس طرح مصافحہ کاباب مکمل ہوگیا۔ اس کے بعدامام بخاری رحمہ اللہ نے ایک دوسراباب بایں عنوان قائم کیا ہے ’’دوہاتھ تھامنے کا بیان‘‘ اس باب کے متعلق شارح بخاری مولانااحمدعلی حنفی سہارنپوری لکھتے ہیں کہ جب مصافحہ کے بغیربھی دونوں ہاتھوں کاپکڑناجائز ہے توامام بخاری رحمہ اللہ نے اس باب کوالگ باندھ دیا۔ مولانا سہارنپوری کی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس باب کاتعلق مصافحہ سے نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو موصولاً لائے ہیں اس کامطلب یہ ہے کہ اس روایت کا اصل محل یہی باب ہے۔ اس سلسلہ میں امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت حماد رحمہ اللہ کاایک اثر بھی بیان کیاہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے دونوں ہاتھوں کے ساتھ مصافحہ کیا تھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک دو ہاتھ کے ساتھ مصافحہ کے قائل نہیں تھے کیونکہ انہوں نے اپنی ایک کتاب ’’البرواالصلہ‘‘ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بایں الفاظ بیان کی ہے ،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی سے ملاقات فرماتے تو اپنا ہاتھ مبارک اس وقت تک نہ کھینچتے جب تک وہ خوداپناہاتھ نہ کھینچ لیتا ۔ [فتح الباری، ص: ۶۸، ج۱۱] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس وضاحت سے دوہاتھ سے مصافحہ کی تردیدکی ہے کہ تابعی حماد بن زیدنے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے دوہاتھ سے مصافحہ کیالیکن خودعبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ دوہاتھ سے مصافحہ کے قائل نہیں تھے ،رہ گئے حمادبن زید توان کاعمل متعدد احادیث اورمتعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقہ مصافحہ کے مقابلہ میں کیاحیثیت رکھتا ہے ،کتب احادیث میں تقریباًچوبیس احادیث ایسی مروی ہیں جن میں مصافحہ کے وقت ایک ہاتھ ملانے کاذکرہے ، آخرمیں ایک ہاتھ کے مصافحہ پر احناف ہی کاایک حوالہ پیش خدمت ہے ۔ابن عابدین درّمختار کے حاشیہ ردالمختار میں لکھتے ہیں کہ ’’اگرحجراسودکوچومنے کی طاقت نہ ہوتو اپنے دونوں ہاتھ حجراسودپررکھ دے اورانہیں چوم لے یاایک ہاتھ رکھے بلکہ صحیح یہ ہے کہ اپنادایاں ہاتھ رکھے کیونکہ شرف اوربزرگی کے کاموں میں یہی دایاں ہاتھ استعمال ہوتا ہے، ’’بحرالعمیق‘‘ نامی کتاب سے یہ نقل کیاگیا ہے کہ حجراسوداللہ تعالیٰ کادایاں ہاتھ ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں سے مصافحہ کرتا ہے اورمصافحہ تودائیں ہاتھ سے ہی کیاجاتا ہے ۔ [ردالمختار،ص: ۶۶،ج۲] آخر میں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی وضاحت سے ہم اپنے فتویٰ کومکمل کرتے ہیں، فرماتے ہیں یہ فصل اس بات کے بیان میں ہے کہ دائیں ہاتھ سے کون ساکام مستحب ہے اوربائیں ہاتھ سے کون سا کام کرنا چاہیے۔ چیزوں کالینا ،کھاناپینا،مصافحہ کرنادائیں ہاتھ سے بہتر ہے۔ اسی طرح دائیں جانب سے وضوکاآغاز کرنا،جوتاپہننااوراپنے کپڑے زیب تن کرناوغیرہ ۔ [غنیہ الطالبین] مختصریہ ہے کہ مصافحہ کامسنون طریقہ یہی ہے کہ صرف دائیں ہاتھ سے کیاجائے ۔بایاں ہاتھ اس کے لئے استعمال نہ کیا