کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 399
مسلم رحمہ اللہ نے اس عمل کوطہارت کے مسائل میں بیان کیا ہے یہ بھی اس بات کاقرینہ ہے کہ اس سے مراد بالوں کاکاٹنانہیں ہے بلکہ غسل کے موقع پر ان کاجوڑابنانا ہے ۔عموماًخواتین غسل کے وقت یہ عمل کرتی ہیں،اگر ا س سے مرادکاٹناہوتوبھی محدثین نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ازواج مطہرات نے سادگی اورترک زینت کے طورپر ایساکیاتھا ۔ اس کے علاوہ اسلامی خواتین کوکفرپیشہ عورتوں سے مشابہت نہیں کرنا چاہیے اورمردوں سے مشابہت کرنے والیوں پر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ [صحیح بخاری ،اللباس :۵۸۸۵] ہمارے نزدیک کسی معقول عذرکے بغیرعورت کوسرکے بال کاٹنے کی اجازت نہیں ہے ۔خاوند کی خوشنودی کوئی معقول عذرنہیں ہے کیونکہ اس کی خوشنودی شریعت کے تابع ہے، اس لئے فیشن کے طورپر عورت کابال کاٹناجائز نہیں ہے، البتہ دومیڈھیاں یاگیسوبنانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی فوت ہوئی تھیں تواس کے بالوں کی تین میڈھیاں بنائی گئی تھیں۔ [صحیح بخاری ،الجنائز:۱۲۳۶] اس لئے عورت کواپنے بالوں کی دوتین میڈھیاں (گتیں) بنانے میں کوئی قباحت نہیں ہے، البتہ فیشن کے طورپر انہیں کاٹناشرعاًجائز معلوم نہیں ہوتا ۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک عورت اپنے داماد کوبیٹاظاہر کرکے حج پر گئی ہے ،کیا اس کاداماد محرم بن سکتا ہے ،اگرنہیں توا س کے حج کی شرعاًکیاحیثیت ہے ،نیزبالوں کے رنگنے کے لئے مہندی میں سیاہ مہندی کی مقدار کس قدر ہونی چاہیے؟ اولین فرصت میں جواب دیں ۔ جواب: اللہ تعالیٰ نے ساس (خوش دامن)کومحرمات میں شمارکیا ہے کہ اس کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تمہاری بیویوں کی مائیں بھی تم پرحرام کردی گئی ہیں ۔‘‘ [۴/النسآء:۲۳] اس کامطلب یہ ہے کہ دامادکوکسی وقت بھی اپنی ساس سے نکاح کی اجازت نہیں ہے، اس بنا پر سا س کوداماد سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اسے محرم کے طورپر حج کے وقت ساتھ لے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔معاشرتی طورپر بھی جس کے ساتھ بیٹی کانکاح کردیاجائے ،اسے بیٹاہی شمار کیاجاتاہے ،البتہ اسے حقیقی بیٹا قرار دینااورکاغذات میں حقیقی بیٹے کے طورپر اس کااندراج کراناصحیح نہیں ہے ۔ہمارے نزدیک داماد کومحرم کے طورپر حج کے وقت ساتھ لے جاناصحیح ہے اوراس طرح حج کرنے میں شرعاًکوئی قباحت نہیں ہے۔ اوربالوں کورنگتے وقت سرخ مہندی میں سیاہ مہندی کی مقدارکتنی ہو،مقدار کاتعین کرنے کے بجائے وہ معیار قائم رکھاجائے، جو شریعت کومطلوب ہے شرعی طورپر سیاہ رنگ سے اجتناب کرناضروری ہے۔ اگرسرخ میں غلبہ سیاہ رنگ کاہے اوردیکھنے میں سیاہ رنگت نمایاں ہے ۔تواس قسم کی ملاوٹ سے اجتناب کیا جائے ،چنانچہ فتح مکہ کے دن حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے والدگرامی حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایاگیا، جبکہ اس کے سراورداڑھی کے بال بالکل سفید ہوچکے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ ’’اس سفیدی کوتبدیل کرو،لیکن سیاہ رنگت سے اجتناب کرو۔‘‘ [صحیح مسلم ، اللباس:۵۵۰۹]