کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 398
آئے۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیااورمجھے دیکھ کر انہوں نے ’’اناللّٰہ واناالیہ راجعون‘‘ پڑھا ۔اتنے میں میری آنکھ کھل گئی تومیں نے اپناچہر ہ اپنی چادر سے ڈھانپ لیا۔ [صحیح بخاری ،المغازی :۴۱۴۱] اس کامطلب یہ ہے کہ صحابیات مبشرات lکے ہاں اجنبی لوگوں سے چہرے کاپردہ رائج تھا۔ عقلی لحاظ سے بھی یہ بات واضح ہے کہ عورت کاچہرہ ہی وہ چیز ہے جومرد کے لئے عورت کے تمام بدن سے زیادہ پرکشش ہے۔ اگر اسے حجاب سے مستثنیٰ قراردیاجائے توحجاب کے باقی احکام بے سودہیں ،اس سلسلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے نبی !اپنی بیویوں، بیٹیوں اوراہل ایمان کی خواتین سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادروں کے پلواپنے اوپر لٹکالیا کریں ۔ ‘‘ [۳۳/الأحزاب: ۵۹] عربی زبان میں ارخاء کالفظ اوپر سے لٹکادینے کے عنوان میں مستعمل ہے، اس کامطلب چادر کے پلو کو سرسے نیچے لٹکاناہے۔ اس میں چہرے کاپردہ خودبخود آجاتا ہے ۔جوحضرات چہرے کوپردہ سے خارج سمجھتے ہیں وہ شریعت کے رمز آشنا نہیں ہیں، اس لئے ہمارے نزدیک اجنبی حضرات سے چہرے کاپردہ ضروری ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اپنے بال کٹواتی تھیں اورکانوں تک رکھتی تھیں ؟ ٭ کیاعورت اپنے بال کٹواسکتی ہے یانہیں ؟ ٭ کیاعورت اپنی دوگتیں کراسکتی ہے ؟وضاحت فرمائیں۔ جواب: بالوں کے متعلق احادیث میں ہے کہ ان کااکرام کیا جائے، ان کے اکرام کے لئے انہیں دھونا، صاف کرنا، تیل لگانااورکنگھی کرناہے ،اس میں مرداورعورت کی کوئی تمیز نہیں ،البتہ مردوں کے لئے بال رکھنے کی حدبندی ہے جبکہ عورت کے لئے اس قسم کی کوئی حدبندی نہیں ۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق صحیح روایات ہیں کہ آپ کے بال نصف کانوں تک اور ایک روایت کے مطابق کہ کندھوں کے درمیان ہوتے تھے ۔ [صحیح بخاری ،اللباس :۵۹۰۱] اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عورت کاحسن وجمال اس کے خوبصورت لمبے اورگھنے بالوں میں ہے۔قرون اولیٰ کی خواتین اپنے بالوں کے متعلق خاص اہتمام کرتی تھیں لیکن آج کی مغرب زدہ عورت جسے گھر سے باہر کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کاشوق ہے اوراسے گھریلوکام کاج کے لئے فرصت نہیں ہے چونکہ عورت کے بال محنت طلب کرتے ہیں جبکہ آج کی صنف نازک اس محنت سے قاصرہے ۔اس نے گندے بالوں کواٹھائے رکھنے کے بجائے انہیں اتار پھینکنے میں ہی عافیت سمجھی ہے، پھر بالوں کوفیشن کے طورپر کاٹناخالص مغربی تہذیب ہے ۔مشرقی خواتین میں یہ تہذیب مغرب کی طرف سے آئی ہے۔اس لئے اس پرفتن دورمیں عورت کواپنے بال کاٹنے کی اجازت دینامغربی تہذیب کی آبیاری کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں ازواج مطہرات کاجوعمل پیش کیاجاتا ہے وہ کئی ایک اعتبار سے محل نظر ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ ازواج مطہرات اپنے بالوں سے لے لیتی تھیں حتی کہ وہ وفرہ کی مانندہوتے تھے۔ [صحیح مسلم ،الحیض :۷۲۸] ہمارے نزدیک اس کامعنی یہ ہے کہ وہ اپنے بالوں کاخاص انداز سے جوڑابنالیتی تھیں۔جووفرہ کی شکل میں نظرآتاتھا ،امام