کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 397
کرتے وقت اس قسم کے مصنوعی دانتوں کو اتارنے کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ وضوکرتے وقت انگوٹھی کواتارناواجب نہیں ہے، البتہ اسے حرکت دینابہتر ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی پہنتے تھے، لیکن دوران وضواس کااتارنا منقول نہیں ہے ،ظاہر ہے کہ دانتوں کی نسبت انگوٹھی پانی کے پہنچنے میں زیادہ رکاوٹ کاباعث ہے، بعض دانت فکس ہوتے ہیں انہیں اتارنا، پھرلگانا بہت مشکل ہوتا ہے، اس لئے وضوکرتے وقت سونے یادیگر مصنوعی دانت اتارنے ضروری نہیں ہیں۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہمارے ہاں بعض عورتیں ناخن پالش کرتی ہیں اورکچھ لڑکیاں مصنوعی ناخن بھی لگالیتی ہیں ،ان کے ہوتے ہوئے وضوکاکیاحکم ہے ہو گا یا نہیں؟ جواب: جس عورت نے اپنے کسی عارضہ کی وجہ سے نماز نہیں پڑھناہے اس کے لئے جائز ہے کہ ناخن پالش یامصنوعی ناخن استعمال کرے ،اگریہ کام کافرعورتوں کی امتیازی علامت ہے توپھر ان سے مشابہت کی وجہ سے کسی بھی مسلمان عورت کے لئے ان کااستعمال جائز نہیں ہے۔اگرعورت کوکوئی عارضہ لاحق نہیں ہے اوراس نے نماز وغیرہ بھی پڑھنی ہے تو ایسے حالات میں ناخن پالش یامصنوعی ناخن کااستعمال درست نہیں ہے، کیونکہ وضویاغسل کرتے ہوئے دونوں چیزیں جسم تک پانی پہنچنے کے لئے رکاوٹ کاباعث ہیں، ہروہ چیز جو اعضائے وضوتک پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ کاباعث ہویاغسل کرنے والے کے لئے اس کااستعمال جائز نہیں ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوران وضوچہرے اورہاتھوں کودھونے کاحکم دیا ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کروتومنہ اورہاتھ دھولیاکرو۔‘‘ [۵/مائدہ:۶] جس عورت نے ناخن پالش یامصنوعی ناخن استعمال کیا ہے اس کے متعلق یہ نہیں کہاجاسکتا کہ اس نے ان کی موجودگی میں اپنے ہاتھوں کودھویا ہے ،اس لئے ایسی صورت میں وضونامکمل ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: عورت کے ستر اورحجاب میں کیافرق ہے۔کیاچہر ہ ستر میں شامل ہے یانہیں، کیاچہرے کا پردہ ضروری ہے؟ جواب: چہرے اورہاتھوں کے علاوہ عورت کاتمام جسم ستر ہے جس کا چھپاناضروری ہے چونکہ گھر میں اکثر محرم ہوتے ہیں ، اس لئے گھر میں عورت کے لئے چہرے اورہاتھوں کے علاوہ باقی جسم کاچھپاناضروری ہے اورجب کوئی غیرمحرم سامنے آئے تو چہرے اورہاتھوں کاچھپانا بھی واجب ہے۔سترصرف خاوند یامجبوری کے وقت ڈاکٹر کے سامنے کھولاجاسکتا ہے۔اس کے بغیر کسی کے سامنے ستر کاکھولنا جائز نہیں ہے۔ حجاب ستر سے زائد ہے۔ ایک دفعہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا باریک لباس میں ملبوس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئیں توآپ نے فوراًاپنامنہ دوسری طرف پھیر لیا اوراسے تلقین فرمائی ’’کہ اے اسماء! جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ جسم کاکوئی حصہ نظرآئے مگر یہ آپ نے منہ اورہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ ‘‘ [ابوداؤد ، اللباس : ۴۱۰۴] اس حدیث میں عورت کا ستر بیان ہواہے کہ چہرے اورہاتھوں کے علاوہ تمام جسم ستر ہے۔جس کا ڈھانپنا ضروری ہے۔ جب کوئی اجنبی سامنے آجائے توچہرے اورہاتھوں کامستورکرنابھی ضروری ہے، جیسا کہ واقعہ افک میں حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب میں قافلہ سے پیچھے رہ گئی تواپنی جگہ پربیٹھی رہی ،اتنے میں میری آنکھ لگ گئی۔حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ