کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 395
زینت ولباس سوال: پاکستانی معاشرے کے مخصوص حالات اوردیہاتی طرززندگی کے پیش نظر شرعی پردہ کیسے نافذ کیاجائے ، کیا مخصوص حالات وظروف کی وجہ سے اس میں کوئی نرمی کی جاسکتی ہے؟ جواب:پردہ کے متعلق قرآن وحدیث میں واضح احکام موجود ہیں۔ ان پرعمل کرنے سے ہی موجودہ بے حیائی کے سیلاب کوروکا جاسکتا ہے۔ امہات المؤمنین اوردیگر صحابیات کانمونہ ہمارے سامنے ہے، انہوں نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی اس پرعمل کیا ہے ۔حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اپنے گھوڑوں کی خوراک لانے کے لئے گھرسے باہر جاتیں ۔آپ مکمل پردہ سے باہرنکلاکرتی تھیں، اس کے احکام پرعمل کرنے کے لئے دیہاتی یاشہری ماحول کی تفریق درست نہیں ہے اورنہ ہی اس پرمخصوص حالات یاخاص طرز زندگی اثرانداز ہونی چاہیے اورنہ ہی احوال وظروف کی وجہ سے ان میں نرمی کوروارکھاجاسکتاہے۔ کسی انتہائی مجبوری کے وقت، مثلاً: بیماری یاحادثہ کی صورت میں غیرمحرم کے سامنے چہرہ کھولاجاسکتا ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: کیا عورت ایسالباس پہن سکتی ہے جوآگے پیچھے یادائیں یابائیں جانب کھلاہوا ہو اور چلتے وقت بعض اوقات اس کی پنڈلی ننگی ہوجاتی ہو،ہمارے معاشرے میں اس قسم کا لباس بطور فیشن عام ہوتاجارہاہے ۔قرآن وحدیث کی رو سے اس کی وضاحت درکا رہے؟ جواب: عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ کامل شرم و حیا کامظاہر ہ کرے اورایسالباس استعمال کرے جو اس کا تمام بدن ڈھانپ لے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں خواتین ایسی قمیص پہنتی تھیں جوپاؤں کی طرف سے ٹخنوں تک اورہاتھوں کی طرف سے ہتھیلیوں تک ہوتی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لباس کے متعلق بہت سخت وعیدسنائی ہے آپ نے فرمایا:’ ’اہل جہنم کی دو اقسام ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے ابھی تک نہیں دیکھا ہے ایک وہ لوگ جن کے پاس گائے کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے جن کے ساتھ وہ لوگوں کوزدوکوب کریں گے۔ دوسرے ایسی عورتیں جنہوں نے لباس توپہناہوگا لیکن اس کے باوجود وہ ننگی ہوں گی دوسروں کی طرف ازخود مائل ہونے والی اورانہیں اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی۔ ان کے سربختی اونٹوں کی کوہان جیسے ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی ا س کی خوشبو پاسکیں گی،حالانکہ جنت کی خوشبوبہت دوردراز کی مسافت سے آتی ہوگی۔‘‘ [صحیح مسلم ،اللباس :۲۱۲۸] اس وعید سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ عورت ایسالباس زیب تن کرے جو اس کے تما م جسم کوڈھانپ لے، نیز باریک اورچست لباس سے پرہیز کرے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہم لیڈیز ٹیلرنگ کاکام کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مختلف قسم کی عورتیں آتی ہیں ،کچھ عورتیں ماپ کے لئے اپنے کپڑے لے کرآتی ہیں اورکچھ عورتیں کپڑوں کے بجائے اپنے جسم کاماپ دیتی ہیں۔ ہمیں کسی نے بتایا ہے کہ عورت غیرمردکوجسم کا ماپ نہیں دے سکتی اورنہ ہی غیرمردعورتوں کے کپڑے دیکھ سکتا ہے۔اس کا کہناہے کہ یہ کام حرام ہے مسئلہ کی وضاحت فرمادیں؟