کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 392
یعنی عقیقہ کے بعد ہی گروی سے آزادی ہو گی، اس لئے شریعت نے بچے یابچی کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنے کی تاکید کی ہے بچے کی طرف سے دوبکرے یاچھترے اوربچی کی طرف سے ایک بکرا یاچھترابطورعقیقہ دیناہوگا ۔تنگی حالات کے پیش نظر بچے کی طرف سے ایک جانوربھی دیاجاسکتا ہے۔ اگرساتویں دن عقیقہ کرنے کی گنجائش نہ ہو تو زندگی میں کسی وقت بھی بطورصدقہ جانور ذبح کئے جاسکتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ ’’اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘ [۲/البقرہ:۲۸۶] اس آیت کے پیش نظر اگرعقیقہ کے وقت حالات سازگار نہیں تھے توعقیقہ نہ کرنے پراللہ کے ہاں بازپرس نہیں ہوگی ۔لیکن گائے اور بیل وغیرہ سے متعدد بیٹوں ،بیٹیوں ،بہنوں اوربھائیوں کی طرف سے عقیقہ کرناشرعاًدرست نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں بکرے اورچھترے کے علاوہ کسی دوسرے جانورکوعقیقہ کے لئے ذبح کرنامستحسن نہیں ہے۔ اس لئے اگراللہ نے توفیق دی ہے بیٹوں اوربھائیوں کی طرف سے دو،دواوربہنوں ،بیٹیوں کی طرف سے ایک ایک جانورذبح کیاجائے۔ [واللہ اعلم ] سوال: اہل حدیث حضرات بھینس کاحلال ہوناقیامت تک قرآن وحدیث سے ثابت نہیں کر سکتے، ہاں اگر فقہ حنفی کوتسلیم کرلیا جائے تومسئلہ بآسانی حل ہوسکتا ہے؟ جواب:فقہ حنفی منزل من اللہ نہیں ہے جس کااتباع ضروری ہواگر ایساہوتاتوامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگردان رشید امام ابویوسف اورامام محمد; امام صاحب کی 1/3حصے سے مخالفت نہ کرتے، مثلاً: امام صاحب کے نزدیک بٹائی پرزمین لے کرکاشت کرنا جائز نہیں ہے ۔اسی طرح نومولود کاعقیقہ کرنابھی ان کے نزدیک غیرمشروع ہے، جبکہ صاحبین نے اپنے امام کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے جواز استحباب کافتویٰ دیا ہے۔ قرآن کریم نے اس امت کو’’ماانزل‘‘کی اتباع کاحکم دیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’لوگو! جو کچھ تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کیاگیا ہے ا س کی پیروی کرو، اس کے علاوہ دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ [۷/الاعراف: ۳] اللہ تعالیٰ نے بطورشریعت دوہی چیزیں نازل کی ہیں۔ ایک قرآن اوردوسرااس کا بیان، یعنی احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ماانزل‘‘ میں بھینس کی حلت اس طرح ہے کہ اس میں ان چیزوں کی نشاندہی کردی گئی ہے جوحرام ہیں، مثلاً: جانوروں میں سے وہ حرام ہیں جونیش دار، یعنی کچلی والے ہیں اورپرندوں میں وہ حرام ہیں جوچنگال دار، یعنی پنجے سے شکارکرتے ہیں اور پنجے ہی سے پکڑکرکھاتے ہیں، بعض حرام جانوروں یاپرندوں کانام بھی لیا ہے، مثلاً: گھریلو گدھا،کتااورکواوغیرہ ۔اسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں جنہیں مارنے کاحکم ہے، مثلاً: چھپکلی وغیرہ یاجنہیں مارنے سے منع کیاگیا ہے، مثلاً: بلی اورمینڈک وغیرہ ،ان کے علاوہ جتنے بھی جانوریاپرندے ہیں ،سب حلال ہیں۔ بھینس ان حرام جانورکی فہرست میں کسی طرح بھی داخل نہیں ہے۔ اس بنا پر اس کے حلال ہونے میں کیا شبہ ہے، اس لئے ہمیں مذعومہ فقہ حنفیہ کاسہار الینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اگرشریعت کی نظر میں فقہ حنفی کی اتنی ہی قدروقیمت ہے توحجتہ الوداع کے موقع پر تکمیل دین کااعلان چہ معنی دارد۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے اسی(80) سال بعد پیداہوتے ہیں ۔ اگر فقہ حنفی کا وہی مقام ہے جس کے لئے اس قدر زور صرف کیا جارہا ہے تو اسی(80) سال تک دین نامکمل رہا۔ جسے فقہ حنفی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ نعوذ باللہ اس فکر کو تسلیم کرلینے سے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ بہرحال ہمارا