کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 391
حدیث میں ہے کہ قربانی کے لئے تم دودانتہ جانور ذبح کرواگرایسا جانور میسر نہ ہوتواس کے بجائے ایک سال کا مینڈھا ذبح کردو۔ [صحیح مسلم ، الاضاحی :۱۹۶۳] د و دانتہ جانور نہ ملنے کی دو صورتیں ہیں: 1۔ قربانی کے لئے دودانتہ جانور عام دستیاب ہولیکن صارف کی قوت خریدسے بالاترہو ۔ 2۔ قربانی دینے والے کے پاس قوت خرید توہے لیکن مارکیٹ میں مطلوبہ جانوربسہولت دستیاب نہیں ہے ۔ اگر مذکورہ بالاصورتوں میں کوئی صورت سامنے آجائے توایک سال کا مینڈھاذبح کیاجاسکتاہے ،جن احادیث میں یک سالہ مینڈھا ذبح کرنے کی اجازت منقول ہے، انہیں مذکورہ بالا دوصورتوں میں سے کسی ایک پرمحمول کیاجائے گا ۔ [واللہ اعلم ] سوال: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے ایک بڑی قربانی بطورفدیہ دے کر اسے چھٹرا لیا۔‘‘ [۳۷/الصافات:۱۰۷] اس بڑی قربانی سے کیامرادہے ؟بعض لوگ اس سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی مرادلیتے ہیں وضاحت فرمائیں؟ جواب: حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق متعدد اسرائیلی روایات بیان کی جاتی ہیں، حالانکہ قرآن کریم کے بیان کے بعد کسی روایت کی ضرورت نہیں رہتی، چنانچہ اس واقعہ کوایک ’’نمایاں کارنامہ‘‘ کٹھن امتحان کے طورپربیان کیاہے اورذبح عظیم کابطورفدیہ ذکرکیاہے، البتہ حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ذبح عظیم سے مرادایک مینڈھا تھا۔ [البدایہ والنہایہ، ص: ۱۴۹، ج۱] حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے جس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے، اسے امام احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کوآوازدی گئی کہ آپ نے اپناخواب سچاکردکھایا ہے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک سفید رنگ کاسینگوں اورسرمگیں آنکھوں والا مینڈھا ذبح ہواپڑاہے۔ [مسندامام احمد، ص: ۲۹۷،ج۱] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم بھی قربانی کے لئے مینڈھوں کی یہی قسم تلاش کرتے ہیں ۔واضح رہے کہ یہ ایک طویل روایت ہے جس سے محدثین کرام نے کئی ایک مسائل کو مستنبط کیا ہے ،ہمارے نزدیک ذبح عظیم سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ مرادلینا ایک خاص مکتب فکر کے حاملین کاکشیدکردہ مسئلہ ہے۔ احادیث میں اس کاکوئی ذکر نہیں ہے اس کے خلاف واقعہ ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت اور شہادت سے ہزاروں سال پہلے ذبح عظیم کاواقعہ ہوچکا تھا ۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک شخص کی دولڑکیاں ،ایک لڑکا ،دوبھائی اورایک بہن ہے ان میں سے کسی کاعقیقہ نہیں ہوا۔کیونکہ عقیقہ کے وقت مالی حالات درست نہ تھے اب حالات بہتر ہوئے ہیں اورعقیقہ کرناچاہتے ہیں، کیاایک گائے سے ان سب کاعقیقہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔ جواب: واضح رہے کہ شریعت اسلامیہ میں عقیقہ کی بہت اہمیت ہے کہ استطاعت کے ہوتے ہوئے اگرعقیقہ نہ کیاجائے تو اولاد کے نیک اعمال میں اس کاوالد شریک نہیں ہوسکے گا۔حدیث میں بیان ہے کہ ہربچہ اپنے عقیقہ کے بدلے اللہ کے ہاں گروی ہے،