کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 390
گوشت کھایا جاتا ہے ان کابول وبرازنجس نہیں ہے۔ آپ نے اس کے متعلق کئی ایک دلائل پیش فرمائے ہیں ۔ان دلائل کاتقاضا ہے کہ جن حیوانات کاگوشت کھایا جاتاہے ان کا بول وبراز نجس نہیں ہے اورنہ ہی اوجڑی اس کامحل ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے ۔یہ حلال جانور کاحصہ ہے۔اسے اچھی طرح دھوکر صاف کرکے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ایسے اگر کسی کادل نہ چاہے تواسے کھانے پرمجبورنہیں کیا جاسکتا۔ [واللہ اعلم] سوال: اگرقربانی کاجانور خریدنے کے بعد اس میں عیب پڑجائے تواسے ذبح کیاجاسکتاہے یااس کی جگہ کوئی صحیح وسالم جانور خریدنا ہو گا؟ جواب: احادیث میں قربانی کے جانور کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کایہ معمول بیان ہو اہے کہ اسے ذبح کرتے وقت ان عیوب کو دیکھتے تھے ،جوقربانی کے لئے رکاوٹ کاباعث ہیں ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرخریدنے کے بعدذبح کرنے سے پہلے قربانی کے جانور میں کوئی عیب پڑجائے تووہ قربانی کے قابل نہیں رہتا اسے تبدیل کرناچاہیے ۔یہ ایسے ہے جیسے قربانی کے جانور کو قبل از وقت ذبح کر دیا جائے، چنانچہ حدیث میں بیان ہے کہ حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عید سے پہلے قربانی کاجانورذبح کردیاتھاتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’یہ عام گوشت ہے اس کے بدلے کوئی اورجانور ذبح کیاجائے۔‘‘ [صحیح بخاری ،الاضاحی : ۵۵۶۰] خریدنے کے بعد عیب پڑنے کی صورت میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس جانور کوقربانی کے طورپر ذبح کردینے کافتویٰ دیتے ہیں اور دلیل میں یہ حدیث پیش کرتے ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے قربانی کے لئے ایک دنبہ خریدا،لیکن ذبح سے پہلے اس کی چکی ایک بھیڑیالے گیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہی جانورذبح کرنے کی اجازت فرمائی ۔ [مسندامام احمد :۳/۷۸] لیکن ایک تو یہ حدیث اس قابل نہیں کہ اسے بطور صحت پیش کیاجائے ،کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی جابرجعفی ہے جو محدثین کے ہاں انتہائی مجروح اور ناقابل اعتبار ہے، نیزاس کی سند میں ایک دوسرا محمد بن قرظہ جوجابرجعفی کا استاد ہے، کتب جرح میں اسے مجہول قراردیاگیا ہے۔ [خلاصہ تہذیب الکمال، صفحہ نمبر:۳۵۶] دوسری بات یہ ہے کہ دنبے کی چکی کانہ ہوناکوئی ایساعیب نہیں ہے جوقربانی کے لئے رکاوٹ کاباعث ہو۔یہ ایسے ہے کہ اگرقربانی کے جانورکادانت ٹوٹ جائے تواسے قربانی کے طورپر ذبح کیاجاسکتا ہے۔حاصل یہ ہے کہ قربانی کاجانورنامزدکرنے کے بعد اگراس میں عیب پڑجائے تواس کے بدلے دوسراجانور ذبح کرناچاہیے ۔اگرقربانی کی استطاعت نہیں تواللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہیں۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: ہمارے ہاں عام طورپرایک سال یاچھ ماہ کا چھتر اقربانی کے لئے ذبح کردیاجاتاہے ،قرآن و حدیث کے لحاظ سے اس کی وضاحت فرمائیں؟ جواب: قربانی کے جانور کے لیے ضروری ہے کہ وہ دو دانتہ ہو اس کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے کیونکہ علاقائی آب وہوا کی وجہ سے اس کے دودانتہ ہونے کی عمر میں کمی بیشی ہوسکتی ہے ،اگردوداتنہ نہ ملے توایک سال کادنبہ یاچھتراذبح کیاجاسکتا ہے۔