کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 386
وقت کسی شخص کوکہاتھا کہ قربانی ذبح کرنے میں میری اعانت کرو اس شخص نے آپ کی اعانت کی۔ [الفتح الربانی، ص: ۶۵،ج۱۳] ٭ ذبح کرنے کے بعد جانورکی گردن مروڑ کراس کامنکا نہ توڑاجائے اورنہ ہی چھری کی نوک کو گردن کی ہڈی میں موجود حرام مغز میں ماراجائے ،ایساکرنے پرجانور حلال کرنے کا مقصدپورانہیں ہوتا،بلکہ اس کا خون باہر نکلنے کے بجائے اندرہی رک جاتا ہے جوصحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ۔ ٭ جانور کوٹھنڈاکرنے میں جلدی نہ کی جائے ،جب تک مکمل طورپرساکت نہ ہوجائے اس کی کھال اتارنے کاآغاز نہ کیاجائے۔واضح رہے کہ جانورکے زندہ وزن کاتقریباًبارہواں خون ہوتا ہے جسے ذبح کے وقت اوراس کے بعد باہرخارج ہوناچاہیے ۔کیونکہ ہماراانسانی معدہ خون ہضم نہیں کرسکتا ،اس معدہ میں خون کی لحمیات ہضم کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، لہٰذا خون کے نکلنے کے بعداس کی کھال اتاری جائے اورگوشت کاٹاجائے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: قربانی کاجانور ذبح کرنے کے بجائے اس کی قیمت کومتأثرین زلزلہ کے لئے جمع کرناشرعاًکیاحیثیت رکھتا ہے؟ قرآن و حدیث سے اس کی وضاحت کریں۔ جواب: دس ذوالحجہ کوقربانی کرنااللہ کے شعائر سے ہے اورسنت ابراہیم علیہ السلام کوتازہ کرنا ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی سنت اورسنت المسلمین قراردیا ہے ۔آپ نے اس سنت پرہمیشہ عمل کیاہے۔قربانی کے شدیداہتمام کاا س امر سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ نے حج کی قربانی کے لئے سواونٹ ذبح کئے ۔اس کے ساتھ آپ نے عیدالاضحی کی قربانی بھی کی اورازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے ذبح کرنے کااہتمام فرمایا۔آپ نے امت کوتاکیدفرمائی کہ مسلمانوں کاہرگھرانہ ہرسال قربانی کرے ۔استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے پرشدید ناراضی کااظہار فرمایا۔حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قربانی کابہت اہتمام کرتے تھے اورقربانی کے جانورپرمحنت کرکے اسے خوب موٹا کرتے تھے حتیٰ کہ انہوں نے سفرکی حالت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس سنت کواد اکیاہے اوراس بات کا بھی ہمیں علم ہے کہ امت مسلمہ بعض اوقات بڑے کٹھن حالات سے دو چار رہی۔ غزوۂ تبوک کے موقع پرآپ نے تعاون کے لئے خصوصی مہم چلائی اوراس کے لیے برملا اعلان فرمایا قبیلۂ مضر کے مفلوک الحال لوگ خستہ حالت میں مدینہ طیبہ تشریف لائے ،آپ نے ان کے تعاون کے لئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیااورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوان کے ساتھ تعاون کرنے پرآمادہ کیا،لیکن کسی وقت بھی ایسانہیں ہواکہ قربانی کاجانور ذبح کرنے کے بجائے اس کی قیمت رفاہی کاموں اورفاقہ زدہ لوگوں پرخرچ کی گئی ہو ۔بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قربانی کی سنت کوزندہ رکھتے ہوئے غرباء ومساکین کے ساتھ بھرپورتعاون کیاہے۔ ہمیں بھی اس سنت کوتازہ رکھتے ہوئے متاثرین زلزلہ کے ساتھ تعاون کرناچاہیے۔ بلکہ قربانی کے جانور خریدکر زلزلہ زدگان میں تقسیم کرنے چاہیے۔ اس سلسلہ میں مختلف تحریکوں کی طرف سے اعلانات شائع ہورہے ہیں لیکن انہیں قربانی کی رقم دینے کے بجائے قربانی کے جانور لے کردیئے جائیں،بلکہ خودوہاں جاکر قربانی کے جانور ذبح کرکے کھلے آسمان تلے یاخیمہ بستیوں میں رہنے والوں کوان کاگوشت دیاجائے ،ہمارے نزدیک یہ کسی صورت میں جائز نہیں ہے کہ قربانی ذبح کرنے کے بجائے اس کی قیمت اس فنڈ میں جمع کرادی جائے ،جومتاثرین زلزلہ کے لئے ہے ان کے ساتھ اپنی گرہ سے بھر پور