کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 385
3۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے والاایک حنش نامی راوی ہے۔ اس کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ سچا ہے، لیکن اس کے بے شمار اوہام ہیں اور مرسل روایات بیان کرنے کاعادی ہے۔ [تقریب،ص :۸۵] ا س کے متعلق امام ابن حبان رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ کثیر الوہم ہے اورحضرت علی رضی اللہ عنہ سے بعض روایات بیان کرنے میں منفرد ہے اس بنا پر قابل حجت نہیں ہے۔ [عون المعبود ،ص: ۵۱،ج۳] ان تصریحات سے معلوم ہوتاہے کہ مذکورہ بالاروایت سخت ضعیف ہے، اگراسے صحیح تسلیم بھی کرلیاجائے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی اورآپ اس وصیت پرعمل کرتے تھے یہی وجہ ہے حضر ت ابوبکرصدیق ، حضرت عمرفاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی دینے کاعمل منقول نہیں ہے، لہٰذا اس سلسلہ میں ہماراموقف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنامحل نظر ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: قربانی ذبح کرنے کے کیا آداب ہیں؟ قرآن وحدیث سے اس کے متعلق ہدایات کا حوالہ دیں۔ جواب: قربانی کاجانور ذبح کرناایک عبادت ہے اورعبادت کے لئے نیت کاہوناضروری ہے۔ اس جانورکوذبح کرنے سے پہلے اس کی نیت کرناضروری ہے، وہ بھی خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہوناچاہیے۔ حدیث میں ہے کہ ’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پرہے اورہرانسان کووہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘ [صحیح بخاری، بدء الوحی:۱] ٭ ذبح کرنے کے لئے چھری کواچھی طرح تیز کیاجائے اوراسے قربانی کے جانو رسے چھپاکررکھاجائے ،حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے لئے چھری کو تیزکرنے کاحکم دیااورفرمایا: ’’اسے جانور سے چھپا کر رکھا جائے۔‘‘ [مسندامام احمد، ص: ۱۰۸ج۲] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کوحکم دیا کہ ’’چھری کوپتھر پر تیز کرکے لاؤ۔‘‘ [صحیح مسلم، الاضاحی: ۱۹۸۷] ٭ ذبح کرتے وقت جانور کوبائیں پہلو پرلٹالیاجائے، پھراپنا پاؤں اس کی گردن پررکھاجائے۔اس کے بعد بائیں ہاتھ سے اس کی گردن پکڑکر دائیں ہاتھ سے چھری چلادی جائے۔حدیث میں ہے کہ ’’جب تم کسی جانور کوذبح کروتوعمدہ طریقہ سے ذبح کرو، اپنی چھری کواچھی طرح تیز کرلو تاکہ ذبح کرتے وقت جانورکوآرام پہنچے ۔‘‘ [صحیح مسلم ،الذبائح :۱۹۵۵] ٭ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چھری ذبیحہ کے سامنے تیزنہ کی جائے اورنہ ہی ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کوذبح کیاجائے اورنہ ہی کسی جانورکوگھسیٹ کرذبح کرنے کی جگہ پر لے جایاجائے ۔ [شرح نووی، ص: ۱۰۷،ج۱۳] ٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذبح کرتے وقت اپناقدم جانور کی گردن پررکھتے تھے اور (بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ) کہہ کرذبح کرتے تھے۔ [صحیح بخاری ، الاضاحی :۵۵۶۵] ٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُکہتے وقت اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کے الفاظ سے دعاکرنا بھی مستحب ہے ۔ [صحیح مسلم ، الاضاحی: ۵۰۹۱] ٭ قربانی کرنے والے کوچاہیے کہ خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے ۔ [صحیح بخاری ،الاضاحی :۵۵۶۴] ٭ قربانی کرتے وقت کسی دوسرے شخص سے تعاون بھی لیاجاسکتاہے ۔حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی ذبح کرتے