کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 384
ان آیات واحادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کاہرخرچہ خاوندکے ذمہ ہے لیکن ہماری مشرقی روایات کچھ اس طرح تشکیل پاتی ہیں کہ شادی کے بعد بھی شادی شدہ بیٹی کے اخراجات والدین کے ذمے پڑے رہتے ہیں۔ اگروالدین ان کامطالبہ کریں توغیر مروت اورغیرمہذب ہونے کے طعنے سننے پڑتے ہیں، اس لئے والدین بے چارے رواداری میں انہیں برداشت کرتے رہتے ہیں۔ سوال میں ذکر کردہ اخراجات بھی اسی قبیل سے ہیں۔ بچی کی شادی کے بعد اس کے ہاں پہلے بچے کی ولادت عام طورپر والدین کے ہاں ہوتی ہے، شرم وحیا اور نسوانیت کاکچھ تقاضابھی ہوتا ہے لیکن لڑکے کے والدین بچی کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ولادت پرجتنے بھی اخراجات آتے ہیں وہ بچی کے والدین ہی برداشت کرتے ہیں، خواہ بچے کی پیدائش گھرمیں ہویا ہسپتال میں، کسی پرائیویٹ کلینک میں ڈاکٹر حضرات بھی ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں ،دس پندرہ ہزار روپے تومعمولی بات ہے۔ پھرولادت کے بعداگر مذہبی ماحول ہے توعقیقہ کے اخراجات بھی بچی کے والدین ہی برداشت کرتے ہیں۔ شرم کے مارے کچھ کہابھی نہیں جاتا، حالانکہ ولادت وعقیقہ کے تمام اخراجات کوپوراکرناشرعاًواخلاقاًخاوند کی ذمہ داری ہے، پھرجب ولادت کے بعد بچی کوواپس خاوند کے گھررخصت کرنا ہوتا ہے تواس وقت بھی افراط و تفریط سے کام لیا جاتا ہے، حالانکہ باپ تمام اولاد کے درمیان مساوات قائم رکھنے کاپابند ہے۔ عیدالفطر، بقرہ عید کے موقع پر ’’عیدی ‘‘کے نام سے بھی یہی کچھ کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک اوربہت گندی رسم رائج ہے کہ جب فوت ہوجاتی ہے تواس کے کفن ودفن کے اخراجات بھی بچی کے والدین پوراکرتے ہیں، حالانکہ اس بے بچاری نے ساری عمر خاوند کی خدمت گار ی میں گزاری ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں کفن کا بندوبست بچی کے والدین کے ذمہ ہوتاہے ۔پھرکفن کے نام پرایسے سرخ رنگ کی چادر یادوپٹہ دیاجاتا ہے گویا آج اسے گھر سے دلہن بنا کر رخصت کرناہے ۔اس قسم کی افراط و تفریط ایک مسلمان کے شایان شان نہیں ہے بہرحال شادی کے بعد بیوی کے تمام اخراجات خاوند کے ذمہ ہیں ،اس لئے ولادت وعقیقہ اورکفن ودفن کے اخراجات خاوند کوپوراکرنے چاہییں۔ [واللہ اعلم] سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بعض لوگ قربانی کرتے ہیں ،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کامعمول تھا کہ وہ قربانی کے موقع پر دوجانور ذبح کرتے تھے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور دوسرااپنی طرف سے، سوال کرنے پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کرتا رہوں۔ [ابوداؤد، الاضاحی: ۲۷۹۰] ترمذی کے یہ ا لفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے بعد قربانی کرنے کاحکم دیا تھا۔ [ترمذی ،الاضاحی :۱۴۹۵] لیکن محدثین نے تین خرابیوں کی وجہ سے اس حدیث کوناقابل حجت ٹھہرایا ہے : 1۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کوبیان کرنے کے بعد خودلکھتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شریک کے واسطہ کے علاوہ کسی اورواسطہ سے نہیں پہچانتے۔ راوی حدیث شریک بن عبداللہ کاحافظہ متغیرہوگیا تھا۔ [تقریب التہذیب، ص: ۱۴۵] 2۔ شریک راوی اپنے شیخ ابوالحسناء سے بیان کرتا ہے ۔اس کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مجہول راوی ہیں درجہ سابعہ سے تعلق رکھتاہے ۔ [تقریب:۴۰۱]