کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 378
[صحیح مسلم ،الحج:۱۳۱۷] اس فرمان نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی کھالوں کے حق دار غرباء اور مساکین ہیں اوریہ حق انہی نادار اورغریبوں کوملناچاہیے ۔ہمارے ہاں عام طورپر مندرجہ ذیل مصارف پر ان کھالوں کوخرچ کیا جاتا ہے جواسوئہ حسنہ کے بالکل منافی ہے ۔ 1۔ ائمۂ مساجد اوران کے خطبا کی تنخواہ پرانہیں صرف کرلیاجاتا ہے۔ 2۔ مقامی بچوں کی تعلیم پراٹھنے والے اخراجات ان سے پورے کئے جاتے ہیں ۔ 3۔ مقامی لائبریریوں کی توسیع اورمساجدکی تعمیروترقی پرانہیں خرچ کیاجاتا ہے ۔ 4۔ سیاسی جماعتیں بھی سیاست چمکانے کے لئے ان کھالوں کواستعمال کرتی ہیں ۔ 5۔ جہادی تحریکیں بھی قربانی کے ایام میں سرگرم عمل ہوتی ہیں وہ بھی کھالوں کواکٹھاکرنے میں تگ و دوکرتی ہیں ۔ بعض جہادی تنظیموں کاطریقہ واردات سوال میں ذکر ہوا ہے کہ ان کے افرادقربانی سے پہلے لوگوں سے انفرادی ملاقات کرکے وعدہ کی رسیدیں ان کے ہاتھ میں تھمادیتے ہیں تاکہ اسے پابندکردیاجائے ۔مذکورہ تمام مصارف کے سلسلہ میں ہمیں ہوشیار رہناچاہیے اورقربانی کی کھالیں صرف غرباء اورمساکین اوربیواؤں کاحق ہے ،مقامی طلبا، مساجد، ائمۂ کرام، خطبائے عظام، مقامی لائبریریاں ،سیاسی جماعتیں اورجہادی تنظیمیں ان کی حق دارنہیں، ہاں، اگرمقامی جماعت انتہائی کمزورہواور امام مسجد کی تنخواہ اتنی کم ہوکہ اس سے گزراوقات نہ ہوسکے اوراس کااورکوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ہے تواسے دیگر غرباء ومساکین کی طرح بقدر حصہ کھالیں دی جاسکتی ہیں، اسی طرح اگرمجاہدین مفلوک الحال ہوں توان کی غربت وناداری کے پیش نظر بقدرحصہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ایسانہیں ہوناچاہیے کہ مقامی غرباء و مساکین کونظرانداز کرکے تمام کھالوں پر یہی حضرات قبضہ کرلیں ،واضح رہے کہ اگرکسی نے اپنی سادگی کی وجہ سے وعدہ رسید وصول کرلی ہے تووہ اس کا پابند نہیں ہوجاتا بلکہ اسے چاہیے کہ اپنی صوابدیدکے مطابق قربانی کی کھال کو صحیح جگہ پرصرف کرے ۔قربانی کی کھال سے قربانی کرنے والا خودبھی فائدہ اٹھاسکتا ہے اگروہ اس کا مصلیٰ یامشکیزہ بناکر اپنے استعمال میں لانا چاہے تولاسکتا ہے، اسے فروخت کرکے اس کی قیمت کواپنے ذاتی استعمال میں لانادرست نہیں ہے اورنہ ہی اس کھال کواجرت کے عوض قصاب کو دینا چاہیے، بلکہ اسے مزدوری اپنی گرہ سے دی جائے، جیسا کہ حدیث بالا سے واضح ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: قربانی کاجانور زندہ وزن کر کے فروخت کرناشرعاًجائز ہے؟ جواب: عبادات اور معاملات میں فرق یہ ہے کہ عبادت میں جوازکے لئے حکم دیکھا جاتا ہے، یعنی شریعت نے اس عبادت کوبجالانے کاحکم دیاہو۔جس عبادت سے منع کیاہے یاجس کے بجالانے کاحکم نہیں دیا اسے نہیں کرناچاہیے جبکہ معاملات میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ شارع علیہ السلام نے اس سے منع نہ کیا ہو، یعنی ہروہ معاملہ جائز ہے جس سے شریعت نے منع نہیں کیا۔صورت مسئولہ کے متعلق شریعت نے منع نہیں کیااورنہ ہی اس میں کوئی ایسا سبب پایا جاتا ہے جس کی بنا پراسے منع قرار دیا جائے، لہٰذا قربانی کاجانوروزن کرکے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہم نے علما سے سنا ہے کہ حلال جانور کی اوجڑی کھانامکروہ ہے ،عام حالات میں اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔