کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 376
لیکن اس لفظ سے اکثراہل علم دھوکہ کھاجاتے ہیں ،حالانکہ اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسے راوی کی مرویات متابعت کے بغیر قبول نہیں ہوتیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مقدمہ میں زکوٰۃ کی درجہ بندی کرتے ہوئے وضاحت کی ہے ’’چھٹے درجے سے مراد وہ راوی ہیں جن سے بہت کم احادیث مروی ہیں لیکن ان میں کوئی ایساسقم نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان کی مرویات کوردکردیاجائے ۔ ایسے حضرات کے متعلق ’’مقبول‘‘کا لفظ استعمال ہوگا جس کامطلب یہ ہے کہ اگرمتابعت ہوتومقبول بصورت دیگر ان کی مرویات کمزور ہوں گی ۔‘‘ [مقدمہ ،ص: ۵] زیر بحث حدیث کی متابعت نہیں مل سکی اورنہ ہی اس کی تائید میں کوئی شاہد پیش کیاجاسکتا ہے۔امام ابن قیم رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں کہ محدث ابن قطان رحمہ اللہ نے اس حدیث کوبایں وجہ موصول قراردیا ہے کہ اس کے راوی جہم بن جارودکے حالات کے متعلق کوئی پتہ نہیں چل سکا اوراس سے بیان کرنے والابھی ابوعبدالرحیم خالد بن ابی یزید نامی ایک راوی ہے۔ [تہذیب السنن، ص: ۲۹۲، ج۲] محدث ابن خزیمہ نے بھی اس حدیث کے متعلق اظہار ترددقرارفرمایاہے کہ جہم بن جارودایک ایساراوی ہے کہ غیرکی وجہ سے اس کی بیان کردہ روایت کوبطوردلیل پیش کیاجاسکتاہے۔ [صحیح ابن خزیمہ ،ص: ۲۹۱،ج۴] صحیح ابن خزیمہ پرتعلیق ڈاکٹر مصطفی اعظمی نے لکھی ہے اورمحدث البانی رحمہ اللہ نے نظرثانی کے فرائض سرانجام دیئے ہیں۔ صاحب تعلیق نے اس کی سند کے متعلق لکھا ہے کہ ضعیف ہے، اگرچہ حافظ احمد شاکر نے اس کی سند کوصحیح قراردیا ہے۔ [مسند امام احمد، ص:۱۴۴، ج۹] تاہم مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر ہمیں اس کی صحت تسلیم کرنے میں تردد ہے۔ اس کی صحت تسلیم کرنے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہدی کاجانور اگرمتعین ہوجائے تواسے تبدیل کرنادرست نہیں ،لیکن یہ پابندی قربانی کے جانور میں عائد کرناکسی صورت میں درست نہیں ہے مقصد کے اشتراک سے یہ کب لازم آتا ہے کہ ان دونوں کے احکام بھی ایک جیسے ہوں ، ہمارے نزدیک ہدی اورقربانی کے جانور میں درج ذیل کئی ایک وجوہ سے فرق ہے ۔ 1۔ ہدی کے لئے جگہ کاتعین ہے، یعنی وہ جانور جواللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کرنے لئے بیت اللہ کی طرف ہدیہ روانہ کیاجائے جبکہ قربانی کاجانور ان مکانی حددوقیود کاپابندنہیں ہے ۔ 2۔ ہدی کے لئے اشعاراورتقلید ضروری ہے جبکہ قربانی کے جانور میں یہ پابندی نہیں ہے ۔ 3۔ ہدی صرف ایک آدمی کی طرف سے ہوسکتی ہے جبکہ قربانی میں تمام اہل خانہ شریک ہوتے ہیں، خواہ ان کی تعداد کتنی ہو ۔ 4۔ بعض حالات میں انسان ہدی کاگوشت خودنہیں کھاسکتا اورنہ ہی اپنے رفقا کوکھلاسکتا ہے جبکہ قربانی کاجانور خودبھی کھایا جاسکتا ہے اوردوسروں کوکھلانے میں بھی چنداں حرج نہیں ہے ۔ 5۔ ہدی کے اونٹ میں سات شریک ہوسکتے ہیں جبکہ قربانی کے اونٹ میں دس تک شراکت جائز ہے ۔ 6۔ ہدی کے لئے وقت کی کوئی پابندی نہیں جبکہ قربانی کے لئے مخصوص ایام ہیں ۔