کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 374
بعض روایا ت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کوحکم دیاکہ قربانی ذبح کرواورمنافع کے دینارکواللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردو۔ [ترمذی ، البیوع :۱۲۵۷] اس مقام پریہ وضاحت کردیناضروری ہے کہ ابوداؤد کی روایت میں ایک راوی مجہول ہے جبکہ ترمذی کی روایت میں انقطاع ہے جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے خودبیان کیا ہے، تاہم اس قسم کی روایت کوبطورتائید پیش کیاجاسکتا ہے۔علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی تالیف میں ایک باب بایں الفاظ قائم کیاہے کہ ’’جوشخص قربانی کاجانورخریدنے کے بعد اسے تبدیل کرلیتا ہے۔‘‘ پھراس کے تحت ایک روایت لائے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں سوال ہواجوقربانی کاجانور خریدتا ہے، پھراسے فروخت کرکے اس سے موٹا تازہ خریدتا ہے توآپ رضی اللہ عنہ نے رخصت کاذکرفرمایا ،اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [مجمع الزوائد، ص:۲۱م ج۴] ان روایات کے پیش نظرقربانی کاجانور فروخت کرکے اس سے بہترخریداجاسکتا ہے اورکسی بہترجانورسے اس کاتبادلہ کیاجاسکتا ہے ۔ اورجوحضرات قربانی کاجانورمتعین کرنے کے بعد اسے فروخت یاتبادلہ کوناجائز کہتے ہیں، ان کاموقف ہے کہ قربانی چونکہ وقف کی طرح ہے۔ اس لئے اس میں خریدوفروخت یاتبادلہ جیسا تصرف درست نہیں ہے ۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہدی کے طورپر ایک عمدہ اونٹ کاانتخاب کیا،بعد میں کسی نے اس کی تین سودینار کی قیمت لگادی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اوربتایا کہ میں ایک عمدہ اونٹ ہدی کے طورپر مکہ مکرمہ بھیجنے کاپروگرام بناچکاہوں۔اب مجھے اس کاتین سودینار ملتا ہے، کیامیں اسے فروخت کرکے مزید اونٹ خریدسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا :’’نہیں تم اسی کو ذبح کرو۔ ‘‘ [ابوداؤد ، المناسک: ۱۷۵۶] اس روایت کوامام احمد رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے، لیکن اس میں عمدہ اونٹ کے بجائے بختی اونٹ کا ذکر ہے، جس کی گردن ذرالمبی ہوتی ہے اوروہ بھی بہترین اونٹوں میں شمارہوتا ہے۔ [مسند امام احمد، ص: ۱۴۵،ج۴] منتقی الاخبار میں اس حدیث پربایں الفاظ عنوان قائم کیا گیا ہے۔ کہ ہدی کومتعین کرنے کے بعد اسے بدلنا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ علامہ شوکانی رحمہ اللہ اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پردلالت کرتی ہے کہ ہدی کی بیع درست نہیں ہے، خواہ اس جیسی یاا س سے بہتر کاتبادلہ مقصود ہو ۔ [نیل الاوطار، ص:۱۸۵،ج ۵] چنانچہ قربانی بھی ہدی کی طرح ہے۔ اس بنا پر قربانی کا جانور بھی فروخت یاتبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ان حضرات کاکہنا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی بیان کردہ حدیث اس مسئلہ پرواضح نہیں ہے، نیز محدثین کے قائم کردہ معیارصحت پربھی پوری نہیں اترتی، کیونکہ اس میں ایک راوی شبیب بن غرقد کہتے ہیں کہ میں نے حی، یعنی قبیلہ سے سناجوعروہ بارقی سے بیان کرتا ہے، اس قبیلہ کے افراد کی تعیین نہیں ہو سکی، لہٰذا اس ’’جہالت‘‘ کی وجہ سے یہ حدیث قابل استدلال نہیں ہے، چنانچہ چندایک ائمۂ حدیث نے اس حدیث پراعتراضات کیے ہیں جن میں علامہ خطابی اورامام بیہقی سرفہرست ہیں ۔ [فتح الباری، ص:۷۷۴ ،ج۶] جہاں تک بخاری کی حدیث کے ضعف کامسئلہ ہے اس کے متعلق محدثین کے فیصلے کے مطابق جس راوی کوامام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں لائے ہیں وہ جرح وتعدیل کاپل عبورکرچکا ہے، یعنی امام بخاری رحمہ اللہ اس کے متعلق خوب چھان پھٹک کرنے کے بعد