کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 373
اس سے زیادہ عمر والاجانور قربانی میں نہیں دیا جا سکتا، جیساکہ سوال میں تاثر دیا گیا ہے۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: قربانی کاجانور خریدنے کے بعد کسی بہترجانور سے تبادلہ کرنایااسے فروخت کرکے اس سے بہتر جانور خریدنا شرعاًجائز ہے یا نہیں؟ جواب: اس مسئلہ کے متعلق متقد مین میں اختلاف پایا جاتا ہے، چنانچہ ائمۂ ثلاثہ، یعنی امام ابوحنیفہ ،امام مالک اورامام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک بہتر جانور سے تبادلہ کیا جاسکتا ہے ۔جبکہ امام شا فعی رحمہ اللہ قربانی کے جانور کووقف کی طرح خیال کرتے ہوئے اسے فروخت کرکے یاکسی اورطریقہ سے تبادلہ کوجائز خیال نہیں کرتے ،جیسا کہ فقہ القدیم میں اس کی تفصیل ملتی ہے ۔ [مغنی ابن قدامہ ،ص: ۵۳۵، ج ۱۳] ہمارے ہاں بھی بعض علما اسے ناجائز کہتے ہیں کچھ تو اس قدرانتہاپسند ہیں کہ قربانی کاجانور خریدنے کے بعد کسی عیب پڑجانے کی صورت میں بھی اسے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتے بلکہ اسے ذبح کردینے کی تلقین کرتے ہیں، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث (مسند امام احمد، ص: ۳۲، ج ۳) جس سے یہ مسئلہ کشید کیاہے ۔وہ سخت ضعیف ہے کیونکہ اس میں ایک راوی جابر جعفی انتہائی کمزوراوردوسرا اس کاشیخ محمد بن قرظہ مجہول ہے۔ [سبل السلام ،ص: ۹۴،ج ۴] اس بنا پر اس مسئلہ کوذراتفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ جوحضرات قربانی کے جانور کوفروخت کرکے بہترجانور خریدنے یاکسی بہتر سے تبادلہ کے قائل ہیں ان کے دلائل یہ ہیں حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (قربانی کی )بکری خریدنے کے لئے ایک دینار دیا ، انہوں نے ایک دینار سے دوبکریاں خریدیں، ان میں سے ایک کو دینار سے فروخت کردیا ،پھرجب ایک دینار اوربکری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے توآپ نے اس کے لئے خریدوفروخت میں برکت کی دعافرمائی ۔ [صحیح بخاری ،المناقب :۳۶۴۲] بعض روایات میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قربانی کاجانورخریدنے کے لئے بھیجا تھا، لیکن راوی نے بعض اوقات قربانی کے بجائے صرف بکری خریدنے کاذکر کیا ہے۔ [مسند امام احمد، ص: ۳۷۵،ج۴] اس روایت کوابوداؤد ،البیوع : ۳۳۸۴، ترمذی ،البیوع:۱۲۵۸،اور ابن ماجہ، الصدقات: ۲۴۰۲ میں بھی بیان کیاگیاہے ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کی بکری خریدنے کاحکم دیا تھا۔ سفیان راوی اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ وہ آپ کے لئے بکری خریدے ،گویاوہ قربانی ہے۔ [صحیح بخاری ،المناقب :۳۶۴۳] اس موقف کی تائید میں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی قربانی خریدنے کے لئے ایک دینار دیا۔انہوں نے اس کے عوض ایک مینڈھا خریدا ، واپسی پرراستہ میں اسے دودینار کے عوض فروخت کر دیا، پھر منڈی سے ایک دینار کے عوض قربانی کاجانور خرید کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قربانی کاجانوراوردینار دونوں پیش کردیئے ۔آپ نے اس دینار کوبھی بطور صدقہ خرچ کردیااور حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے لئے اس کی تجارت میں خیروبرکت کی دعافرمائی۔ [ابوداؤد ،البیوع :۳۳۸۶]