کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 371
[واللہ اعلم] سوال: کسی فوت شدہ کی طرف سے قربانی کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے، اگرقربانی کردی جائے توکیااہل خانہ اس کا گوشت استعمال نہیں کرسکتے، نیز قربانی کے لئے صرف دانتہ جانور ہوناچاہیے ،اس کے علاوہ چوگا یا چھگا جانورذبح نہیں کیاجاسکتا، کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں؟ جواب:زندہ کی طرف سے غائبانہ طورپر قربانی کرنے کاحدیث سے ثبوت ملتا ہے، جیسا کہ حجتہ الوداع کے موقع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے کی قربانی دی تھی، جبکہ انہیں اس بات کاعلم نہیں تھا۔ [صحیح بخاری ،الحج : ۱۷۰۹] لیکن فوت شدہ کی طرف سے مستقل حیثیت سے انفرادی طورپر قربانی دینے کے متعلق کوئی صحیح اور صریح حدیث ہمیں نہیں مل سکی ۔اگرچہ امام ابوداؤد اورامام ترمذی نے میت کی طرف سے قربانی کاعنوان قائم کرکے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کیاکرتے تھے ۔اس کے متعلق سوال کرنے پر آپ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعدمجھے قربانی کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔ [ابوداؤد ،الضحایا :۲۷۹۰] ترمذی کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے بعد قربانی کرنے کاحکم دیاتھا۔ [ترمذی ،الاضاحی :۱۴۹۵] لیکن محدثین کرام نے تین خرابیوں کی وجہ سے اس حدیث کوناقابل حجت قراردیا ہے ۔جوحسب ذیل ہیں: 1۔ امام ترمذی اسے بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے کہ ہم اسے شریک کے واسطہ کے علاوہ اور کسی واسطہ سے نہیں پہچانتے اورشریک بن عبداللہ کاحافظہ متغیرہو گیا تھا، جیسا کہ اس کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’سچا ہے لیکن بکثرت غلطیاں کرنے والا، نیز جب سے اسے کوفہ کاقاضی بنایا گیا اس کاحافظہ متغیر ہوگیا تھا۔‘‘ [تقریب التہذیب، ص: ۱۴۵] 2۔ شریک راوی اپنے شیخ ابوالحسناء سے بیان کرتاہے کہ اس کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مجہول راوی ہے اوردرجہ سابع سے تعلق رکھتا ہے۔ [تقریب، ص: ۴۰۱] 3۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے والا ایک حنش نامی راوی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ سچا ہے، لیکن اس کے بے شمار اوہام ہیں اورمرسل روایات بیان کرتا ہے۔ [تقریب: ص ۸۵] اس کے متعلق امام ابن حبان لکھتے ہیں کہ یہ کثیر الوہم ہے اورحضرت علی رضی اللہ عنہ سے بعض روایات کرنے میں متفرد ہے۔ اس بنا پر قابل حجت نہیں ہے۔ [عون المعبود، ص: ۵۱، ج ۳] ان تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سخت ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل حجت نہیں۔اگراس کی صحت کوتسلیم بھی کر لیا جائے تووصیت کی صورت میں میت کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے۔وصیت کے بغیر قربانی کرنامحل نظر ہے۔اس سلسلہ میں ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا ذبح کرتے وقت فرمایا کہ ’’یہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اور اس کی امت کی طرف سے ہے۔‘‘ [ابوداؤد ،الضحایا:۲۷۹۶] ایک روایت میں ہے کہ ’’یہ میری طرف سے اورمیری امت کے ہرشخص کی طرف سے ہے جوقربانی نہ کرسکاہو۔‘‘