کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 37
اسی طرح حضرت ابو سلمہ نے امام حسن بصری سے کہا تھا: ’’تم اپنی رائے سے فتویٰ نہ دیا کرو فتویٰ کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا سہارا لیا کرو۔‘‘ (سنن دارمی حدیث نمبر۶۵) سوال کرنے والے حضرات کو کس قسم کے آداب کا خیال رکھنا چاہیے، ان کی تفصیل ہم پہلی جلد کے مقدمہ میں بیان کر آئے ہیں، اس سلسلہ میں چند ایک ممنوعہ صورتیں حسب ذیل ہیں: 1۔ ایسے سوالات جن میں کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہ ہو۔ 2۔ دینی ضرورت کے پورا ہونے کے بعد بلاوجہ مزید سوالات کا سلسلہ جاری رکھنا۔ 3۔ ایسے معاملات کے متعلق سوالات کرنے جن کے متعلق شریعت نے سکوت اختیار کیا ہے۔ 4۔ مشکل ترین اور حساس معاملات کے متعلق سوالات کرنا تاکہ جواب دینے والا الجھن کا شکار ہو جائے۔ 5۔ تعبدی احکام کی غرض و غایت اور ان کی علت کے متعلق سوالات کرنا۔ 6۔ تکلف کرتے ہوئے کسی چیز کی گہرائی اور اس کی حقیقت کے متعلق پوچھنا۔ 7۔ ایسے سوالات کرنا جن میں عقل و قیاس کے ذریعے کتاب و سنت کی صریح نصوص کا رد مقصود ہو۔ 8۔ متشابہات کے سوالات اسلاف کے باہمی مشاجرات کو زیر بحث لانا بھی اسی قبیل سے ہے۔ 9۔ کج بحثی، کٹ حجتی اور دوسرے فریق کو لاجواب کرنے کے لیے سوالات کرنا کوئی مستحسن اقدام نہیں ہے۔ 10۔ بلا ضرورت سوالات گھڑ گھڑ کر ان کی تحقیقات میں دماغ سوزی کرنا نیز فرضی مسائل کھڑے کر کے ان کے متعلق غور و خوض کرنا بھی ممنوع ہے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اہم ذمہ داری سونپی ہے کہ آپ دینی مسائل میں لوگوں کی راہنمائی کریں، آپ نے اس عظیم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لیے لوگوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کے اصول کو پیش نظر رکھا ہم نے بھی شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے فتاویٰ میں سائلین کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بے جا سختی اور حرفیت پسندی سے اجتناب کیا ہے اور جواب دیتے وقت اس پہلو کو اختیار کیا ہے جس کا نفس انسانی متحمل ہو البتہ تھوڑی مشقت تو ہر کام میں اٹھانا ہی پڑتی ہے نیز کسی چیز کو حلال اور حرام قرار دینے کے متعلق ہم نے جلد بازی سے احتراز کیا ہے، ہاں کسی چیز کی حلت و حرمت اگر کتاب و سنت کی صریح نصوص سے ثابت ہو تو اس سلسلہ میں ہم نے کسی قسم کی مداہنت سے کام نہیں لیا، کیونکہ اگر ایسے معاملات میں واضح حکم نہ لگایا جائے تو لوگ سستی کرتے ہوئے اس کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ قارئین کرام! فتاویٰ اصحاب الحدیث کی دوسری جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے جو۲۰۰۵ء تا۲۰۰۷ء تین سال سے ہفت روزہ اہل حدیث میں شائع ہونے والے فتاویٰ جات پر مشتمل ہے اور انہیں نئی فقہی ترتیب کے ساتھ شایع کیا جا رہا ہے۔ اس میں درج ذیل خصوصیات ہیں: