کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 369
عقیقہ وقربانی سوال: نام نہادجماعت المسلمین کی طرف سے ہمیں ایک پمفلٹ موصول ہوا کہ خصی جانور کی قربانی جائز نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے۔مرسل نے اس کی وضاحت کے متعلق لکھا ہے؟ جواب: اس پرفتن دورمیں تحقیق کی آڑ لے کر مسلمات کاانکار اوربدعات ورسوم کورواج دیاجارہاہے۔جماعت المسلمین کی طرف سے خصی جانور کوقربانی کے لئے ناجائز قراردیا جانابھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ہم نے پہلے بھی اس سلسلہ کے متعلق لکھا تھا کہ کسی جانور کوخصی کرنے کے مثبت اورمنفی دوپہلوہیں۔مثبت پہلو یہ ہے کہ خصی جانور کاگوشت عمدہ اوربہتر ہوتا ہے جبکہ اس کے علاوہ غیر خصی جانور کے گوشت میں ایک ناگوارقسم کی بوپیداہوجاتی ہے ۔جس کے تناول میں تکدرپیداہوتا ہے اوراس کامنفی پہلو یہ ہے کہ اس کے خصی کرنے سے اس کی قبولیت ختم ہوجاتی ہے اوروہ افزائش نسل کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ قربانی کاتعلق مثبت پہلو سے ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خودقربانی کے لئے بعض اوقات خصی جانور کاانتخاب کیا ہے ۔حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوایسے مینڈھوں کی قربانی دیتے جوخصی اورگوشت سے بھرپور ہوتے ۔ [مسند امام احمد :۵/۱۹۶] قربانی کے ذریعے چونکہ اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل ہوتا ہے، اس لئے قربانی کاجانور واقعی بے عیب اورتندرست ہونا چاہیے۔ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چندایک ایسے عیوب کی نشاندہی فرمائی ہے جوقربانی کے لئے رکاوٹ کاباعث ہیں ۔تاہم قربانی کے لئے جانور کاخصی ہوناکوئی عیب نہیں ہے ۔اگرایسا ہوتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے جانور کوقربانی کے لئے قطعی طورپر منتخب نہ فرماتے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’قربانی کے جانور کاخصی ہوناکوئی عیب نہیں بلکہ خصی ہونے سے اس کے گوشت کی عمدگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ‘‘ [فتح الباری:۷/۱۰] اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ نام نہاد جماعت المسلین کی طرف سے شائع کردہ پمفلٹ بددیانتی پرمبنی ہے ،جس میں خصی جانور کی قربانی کوناجائز قراردیا گیا ہے ۔ہم جانوروں کوخصی کرنے کے متعلق اپنی گزارشات پیش کرتے ہیں۔ متقد مین علما میں اس کے متعلق اختلاف ہے ۔ایک گروہ جانور وں کے خصی کرنے کے عمل کومطلقاًجائز قراردیتا ہے، خواہ وہ جانورحلال ہوں یاحرام ۔جبکہ کچھ علما کی رائے ہے کہ خصی کرنے کی حرمت صرف حرام جانوروں سے متعلق ہے۔ان کے نزدیک حلال جانوروں کاخصی کرناجائزہے ۔جوحضرات حرمت کے قائل ہیں ان کے دلائل حسب ذیل ہیں : ٭ اولاد آدم کوگمراہ کرنے کے متعلق شیطان لعین کاایک طریقہ واردات بایں الفاظ بیان ہوا ہے ’’میں انہیں حکم دوں گا کہ وہ میرے کہنے پراللہ کی ساخت میں ردوبدل کریں ۔‘ ‘ [۴/النسآء:۱۱۹] حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک اس سے مراد جانوروں کاخصی کرنا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت انس رضی اللہ عنہ اورتابعین میں سے حضرت عکرمہ اور حضرت قتادہ;کی یہی رائے ہے۔ [تفسیرابن کثیر]