کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 36
حق مہر کی حقدار ہے؟ کیا خاوند کے ترکہ سے اس کو حصہ ملے گا؟ کیا اس کے ذمے عدت وفات گزارنا ضروری ہے؟ ان سوالات کا جواب دینے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گریز کر رہے ہیں اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، لوگ ایک ماہ تک ان کے پاس آتے رہے اور اصرار کے ساتھ ان سوالات کا جواب پوچھتے رہے آخر کار انہوں نے بایں الفاظ جواب دیا: ’’اس استفسار کے متعلق میرا جواب یہ ہے کہ اس عورت کو خاندان کی باقی عورتوں کی طرح حق مہر ملے گا، اس سے کم ہونہ زیادہ اس کے لیے خاوند کے ترکہ سے میراث بھی ہے اور اسے عدت وفات بھی گزارنا ہو گی اگر یہ فتویٰ درست ہے تو اس کی توفیق اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی اکساہٹ کا نتیجہ ہے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں۔‘‘ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ سن کر حضرت جراح، ابو سنان اشجعی رضی اللہ عنہما اور ان کے خاندان کے کچھ دوسرے افراد نے گواہی دی کہ عہد نبوی میں حضرت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا او ر ان کے خاوند حضرت ہلال بن مرہ اشجعی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہی صورت حال پیش آئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فیصلہ دیا تھا جو آپ نے کیا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق پا کر انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔ (ابوداؤد، النکاح:۲۱۱۶) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فتویٰ دینے میں قطعاً جلدی سے کام نہ لیا جائے بلکہ طویل بحث و تمحیص، غور و خوض، تلاش و جستجو اور عمیق فکر و نظر کے بعد فتویٰ دیا جائے، تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام کا یہی طرز عمل تھا کہ پوری دل جمعی کے ساتھ کتاب و سنت میں مسئلہ تلاش کرتے، خلفائے راشدین کے اقوال کا پتہ چلانے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرتے مکمل جد و جہد اور اجتہاد کے بعد جب اطمینان ہو جاتا تو فتویٰ دیتے تھے ہمارے اسلاف کا فتویٰ دینے کے متعلق یہی منہج تھا لیکن دوسری صدی میں بعض اصول و قواعد میں اختلاف کی وجہ سے فقہا دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے، ایک اہل حدیث کا گروہ تھا جو احادیث نبویہ اور اقوال صحابہ کی بنیاد پر فتویٰ دیتاتھا اور جب تک کسی واقعہ کا ظہور نہ ہو جاتا اس وقت تک اس کے متعلق شرعی حکم بیان کرنے سے گریز کرتا تھا، اس گروہ میں علمائے حجاز کی غالب اکثریت شامل تھی، اس گروہ کے مقابلہ میں دوسرا گروہ اہل الرائے کا تھا، جس میں فقہائے عراق کی غالب اکثریت تھی، ان کے پاس صحیح احادیث کم تھیں، اس لیے انہوں نے فتویٰ دیتے وقت عام طور پر رائے اور قیاس کا کثرت سے استعمال کیا، انہوں نے بعض ایسے قواعد وضع کیے جن کی روشنی میں پیش آمدہ اور آیندہ پیش آنے والے بلکہ محال اور غیر ممکن الوقوع ہزاروں مسائل سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا، ان میں کچھ مسائل بہت ہی مضحکہ خیز ہیں جن سے اسلام اور اہل اسلام کی خواہ مخواہ اغیار کے سامنے بدنامی ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس سلسلہ میں بہت دور اندیش تھے انہوں نے واضح طور پر فرمایا: ’’اصحاب رائے سے اجتناب کرو، کیونکہ یہ حضرات سنتوں کے دشمن ہیں احادیث کو یاد کرنے سے یہ لوگ پست ہمت ثابت ہوئے، اس بنا پر اپنی رائے اور قیاس پر فتویٰ دینے کی روش اختیار کی، سو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔‘‘ (فتح الباری،ص:۲۸۹،ج۱۳)