کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 359
کورجوع کرنے کاحق نہیں ہے اورنہ ہی رشتہ داروں کی صلح سے معاملہ حل ہوسکے گا کیونکہ تیسری طلاق کے بعد خاوند صلح، یعنی رجوع کے حق سے محروم ہوجاتا ہے اس موقف کوحافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے بہت وضاحت کے ساتھ اختیار کیا ہے۔ [زاد المعاد،ص: ۲۸۲،ج ۵ ] اس تیسری طلاق کے بعدبیوی کے درمیان مستقل جدائی ہوجاتی ہے۔ عام حا لات میں ان کا آپس میں نکاح بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں خاوند کواپناحق مہر واپس لینے کی شرعاًاجازت نہیں ہے۔ حق مہر صرف خلع کی صورت میں واپس لیاجاسکتا ہے جبکہ مذکورہ صورت میں ایسا نہیں ہے ،بلکہ خاوند نے خود اپنے ارادہ سے تین طلاق دی ہیں۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی لیکن مقاربت سے پہلے اسے طلاق دے دی کیااس کے خاوند کا باپ، یعنی عورت کاسسر اس سے نکاح کرسکتا ہے؟ جواب: قرآن کریم کی تصریح کے مطابق جس عورت کومقاربت سے قبل طلاق مل جائے اس پرکسی قسم کی عدت وغیرہ نہیں ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو!جب اہل ایمان خواتین سے نکاح کرو، پھر انہیں چھونے سے قبل طلاق دے دوتوتمہارے لئے ان پرکوئی عدت نہیں ہے جس کے پور اہونے کاتم مطالبہ کرو۔‘‘ [۳۳/الأحزاب:۴۹] لہٰذا ایسی عورت پرعدت گزارنے کی پابندی نہیں ہے چونکہ نکاح کرنے سے بیٹے کی بیوی اس کی بہوبن چکی ہے۔ اور قرآن کریم کی صراحت کے مطابق حقیقی بیٹے کی بیوی سے نکاح کرناحرام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اورتمہارے لئے ان بیٹوں کی بیویاں بھی حرام ہیں جوتمہاری صلب سے ہوں ۔‘‘ [۴/النسآء:۲۳] اس لئے صورت مسئولہ میں قبل ازمقاربت اگرکسی عورت کوطلاق مل جائے تواس کاسسر اس سے نکاح نہیں کرسکتا ،کیونکہ قرآن کریم نے اس کی حرمت کومطلق طورپر بیان کیاہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ہمارے ہاں کچھ لوگوں نے شیعہ کی نماز جنازہ پڑھ لی۔مسجد کے خطیب نے فتویٰ دیا کہ جنہوں نے جنازہ پڑھا ہے ان کے نکاح ٹوٹ گئے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟ جواب: جوامام جان بوجھ کرکسی مرزائی کی نماز جنازہ پڑھادے ،اس کے متعلق شرعاًکیاحکم ہے؟ بعض علما کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے نکاح باقی نہیں رہتا اس کی وضاحت فرمائیں؟ 1۔ نکاح ایک ایسا بندھن ہے کہ اس کے ٹوٹنے کے متعلق شریعت نے کچھ ضابطے مقرر کئے ہیں ۔مثلاً: 2۔ خاوند بقائمی ہوش وحواس خوداپنی بیوی کوطلاق دیدے ،مدت گزرنے کے بعد نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔ 3۔ بیوی بذریعہ عدالت خوداپنے خاوند سے طلاق کامطالبہ کرے۔شریعت میں اسے خلع کہاجاتا ہے۔ خلع کے بعد نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔