کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 358
جواب: مشروط تبادلہ نکاح کوشرعی اصطلاح میں شغار کہا جاتا ہے جسے ہم وٹہ سٹہ کانکاح کہتے ہیں۔ شرعی طور پر ایسا کرنا نکاح باطل ہے کیونکہ حدیث میں ہے ۔اسلام میں نکاح وٹہ سٹہ کاکوئی وجودنہیں ہے ۔ [صحیح مسلم ،النکاح :۱۴۱۵] مذکورہ روایت میں نکاح شغار کی تعریف بایں الفاظ کی گئی ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے کہ تم اپنی بیٹی کانکاح مجھ سے کردواوراس کے تبادلہ میں میں اپنی بچی کانکاح تجھ سے کرتا ہوں۔ یہ تعریف ہمارے ہاں رائج وٹہ سٹہ کی ہے۔ صورت مسئولہ میں عابدہ کانکاح اسلم کے سا تھ اس تبادلہ میں کیاجارہا ہے کہ اسلم کی بہن عابدہ کے چچا کے نکاح میں ہے یہ وٹہ سٹہ کی ہی صورت ہے اورایساکرناشرعاً جائز نہیں ہے۔ اگراس نکاح میں یہ قباحت نہ ہوتواسلم کاعابدہ کے بھائی پرجنسی ہوس پوری کرنے کے لیے مجرمانہ حملہ کرنا رکاوٹ کاباعث نہیں ہے، اگرچہ یہ جرم اپنی جگہ پربہت سنگین اورگھناؤنا ہے، تاہم ایسے جرم سے کوئی حلال رشتہ حرام نہیں ہوتا۔بہرحال مذکورہ رشتہ، اس لئے ناجائز ہے کہ ایسا کرنا مشروط نکاح تبادلہ کی صور ت ہے۔ خواہ اسلم کامجرمانہ حملہ کرنایا نہ کرنااس کے حرام ہونے پراثرانداز نہیں ہوگا ۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک خاتون کواس کے خاوند نے نکاح کے تین ماہ بعد جولائی ۱۹۸۰ء میں طلاق دیدی، پھررجوع کر لیا۔ اس کے سات سال بعد ۱۹۸۷ء میں پھرطلاق دی ،رشتہ داروں کی مداخلت سے میاں بیوی کے درمیان صلح ہوگئی ۔بعدازاں مارچ ۲۰۰۲ء میں رشتہ داروں کی موجودگی میں تیسری طلاق دے ڈالی ۔لیکن جب اس سے رابطہ کیاگیا تو اس نے کہاکہ میں نے صرف دوطلاقیں دی ہیں وہ تیسری طلاق سے انکار کرتا ہے جبکہ خاتون اوردیگررشتہ دار کہتے ہیں کہ اس نے تیسری دفعہ طلاق بھی دیدی ہے اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ خاوند کے کہنے پردوطلاقیں ہوں گی یابیوی کی بات کوتسلیم کرتے ہوئے تین طلاق شمار کی جائیں گی، نیز اگرتین طلاقیں ہیں توکیاخاوند حق مہر واپس لینے کامجاز ہے؟ جواب: بشرط صحت سوال واضح ہو کہ خاوند نے وقفہ وقفہ سے تین طلاقیں دے کر،طلاق کانصاب پوراکردیا ہے اب صلح یارجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔پہلی یادوسری طلاق کے بعد خاوند کورجوع کاحق ہوتا ہے جواس نے استعمال کرلیا ہے لیکن صورت مسئولہ میں خاوند کہتا ہے کہ میں نے باضابطہ طور پرصرف دوطلاقیں دی ہیں جبکہ بیوی کادعویٰ ہے کہ خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اوراس پر گواہ بھی موجودہیں۔ ایسی صورت حال کے پیش نظر عورت کی بات کو تسلیم کیاجائے گا اور متنازعہ طلاق کوطلاق ہی شمار کرنامناسب ہے ۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگرعورت اپنے خاوند کی طرف سے طلاق کادعویٰ کرتی ہے اور اس پر ایک عادل گواہ پیش کرتی ہے توایسی صورت حال میں خاوند سے حلف لیاجائے گا ۔اگروہ حلف دے کہ اس نے طلاق نہیں دی تو اس سے گواہ کی گواہی جھوٹی قرارپائے گی اوراگرخاوند قسم دینے سے انکار کردے تواس کے انکار کودوسرے گواہ کے قائم مقام قراردے کرطلاق کو نافذ کردیاجائے گا ۔‘‘ [سنن ابن ماجہ ،الطلاق:۲۰۳۸] اس حدیث کے متعلق امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے کہ ’’خاوند اگرطلاق کاانکارکرے توکیا کیا جائے؟‘‘ صورت مسئولہ میں اگر ایک گواہ ہوتا توخاوند کے حلف پر فیصلہ کیاجاسکتا تھا لیکن اس سوال میں دوتین گواہوں کے دستخط ثبت ہیں کہ خاوند نے تیسری طلاق بھی دے ڈالی ہے ایسے حالات میں اگر گواہ عادل ہیں توتیسری طلاق واقع ہوچکی ہے اورخاوند