کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 357
ہے: ’’جب عورتوں کوطلاق دے دواوران کی عدت پوری ہو جائے توان کودوسرے شوہر وں کے ساتھ نکاح کرنے سے مت روکو جبکہ وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں ۔ ‘‘ [۲/البقرہ: ۲۳۲] صورت مسئولہ میں اگرخاوندنے واقعی اپنی بیوی کوطلاق دیدی ہے اورگواہان بھی قابل اعتبار ہیں اور اس نے دوران عدت رجوع بھی نہیں کیا توعدت کے بعدعورت آزاد ہے۔ خواہ طلاق دہندہ سے دوبارہ نکاح کرے یاکسی دوسرے خاوند سے شادی کرے ۔سوال سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی عدت گزرچکی ہے اورخاوند نے دوران عدت رجوع بھی نہیں کیا۔ایسے حالات میں عورت پرکسی قسم کادباؤ نہ ڈالاجائے ۔وہ نکاح کرنے میں خودمختار ہے، بشرطیکہ وہ ولی کی سرپرستی میں رہتے ہوئے اسے سرانجام دے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک آدمی کاکسی لڑکی سے صرف نکاح ہوا۔اس نے قبل ازرخصتی اسے طلاق دے دی۔تحریر میں یہ بھی لکھا کہ آیندہ ہمار اآپ سے اورتمہاراہم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اب وہ صلح کرناچاہتے ہیں جبکہ طلاق پرچھ ماہ گزرچکے ہیں؟ جواب: واضح رہے کہ میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات ختم ہونے پرصرف دوصورتیں ایسی ہیں کہ عام حالات میں وہ دوبارہ اکٹھے نہیں ہوسکتے ہیں ۔ (الف) اگرخاوندزندگی میں وقفہ وقفہ بعد تین طلاقیں دے ڈالے۔ایسی صورت میں مطلقہ عورت سابقہ خاوند کے لئے حرام ہو جاتی ہے، البتہ تحلیل شرعی کے بعد اکٹھاہونے کی گنجائش ہے۔ (مروجہ حلالہ سے مراد نہیں کیونکہ یہ باعث لعنت ہے ) (ب) لعان کے بعد میاں بیوی کے درمیان جوجدائی عمل میں آتی ہے اس کی وجہ سے وہ آیندہ اکٹھے نہیں ہوسکتے ۔ کسی صورت میں ان کاباہمی نکاح نہیں ہوسکتا۔ ان دوصورتوں کے علاوہ اورکوئی ایسی صورت نہیں ہے کہ وہ دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے ازدواجی تعلقات ختم ہونے پر میاں بیوی کاآپس میں نکاح نہ ہوسکتا ہو۔صورت مسئولہ میں چونکہ نکاح کے بعد قبل ازرخصتی طلاق ہوئی ہے، لہٰذا ایسی صورت میں عدت وغیرہ نہیں ہوتی طلاق ملتے ہی نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ آیندہ جب بھی حالات سازگار ہوجائیں تو شرعی نکاح کرنے کے بعد میاں بیوی کے طورپر زندگی گزارنے میں شرعاًقباحت نہیں ہے۔ اس نئے نکاح کے لئے چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے : 1۔ عورت کی رضامندی ۔ 2۔ سرپرست کی اجازت۔ 3۔ حق مہرکاتعین۔ 4۔ گواہوں کی موجودگی ۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب آیت نمبر۴۹میں اس قسم کی طلاق کاذکرفرمایا ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: بچپن میں یہ طے ہواکہ اسلم کانکاح عابدہ سے کیاجائے گا، کیونکہ اسلم کی بہن عابدہ کے چچا کے نکاح میں ہے، مذکورہ رشتہ اسی بدلے میں طے ہوا تھا۔ کچھ عرصہ بعد اسلم نے عابدہ کے بھائی اکرم پراپنی جنسی ہوس پوری کرنے کے لئے رات کے وقت مجرمانہ حملہ کیالیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا ۔اب اکرم کاموقف ہے کہ اس کے نکاح میں اپنی بہن کونہ دے۔ کیاوہ اس موقف میں حق بجانب ہے اوراس پرعمل کرنا چاہیے؟