کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 356
آکر تین دفعہ طلاق، طلاق، طلاق کہا۔اب فریقین راضی نامہ کرناچاہتے ہیں کیاایساکرناممکن ہے؟ جواب: صورت مسئولہ میں پہلے وٹہ سٹہ کی شادی ہی محل نظر ہے۔ اسلام نے اس قسم کی نارواشرائط کوجائز ہی قرار نہیں دیا جوکہ وٹہ سٹہ کی صورت میں ایک دوسرے پر عائد کی جاتی ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ وہی برآمدہوا جوصورت مسئولہ میں بیان کیاگیا ہے جو حضرات اس کے متعلق کوئی نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ اس نکاح شغار کوچندایک شرائط کے ساتھ جائز قراردیتے ہیں۔ تاہم یہ مسئلہ اپنی جگہ پرقابل اعتبارہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک رجعی شمارہوتی ہے، جیساکہ حضرت ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کوایک ہی مجلس میں تین طلاق دیں تھیں پھراس پر نادم و پشیمان ہوئے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو رکانہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا’’کہ یہ توایک رجعی طلاق ہے اگر چاہوتورجوع کرلو۔‘‘چنانچہ حضرت ابو رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے رجوع کرکے دوبارہ اپناگھرآباد کرلیاتھا ۔ [مسند امام احمد، ص :۲۶۵، ج ۱] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ حدیث مسئلہ تین طلاق میں ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے جس کی اورکوئی تاویل نہیں کی جا سکتی۔ [فتح الباری، الطلاق ] اگرچہ اس انداز سے طلاق دینے کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ کھیلنا قرار دیا ہے اوراس پر ناراضی کا اظہا ر کیاہے۔ [نسائی، الطلاق:۳۴۳۰] واضح رہے کہ اس سہولت سے وہی لوگ فائدہ اٹھانے کے حقد ار ہیں جوکتاب و سنت کو ہی آخری اتھارٹی قراردیتے ہیں۔ البتہ جوحضرات تقلید کے بندھن میں جکڑے ہوئے ہیں انہیں مطلب پرستی کے طورپر اہلحدیث کی طرف رجوع کرنا قابل ستائش نہیں ہے۔ بہرحال صورت مسئولہ میں یہ ایک رجعی طلاق ہے اس کے بعد (دوران عدت ازخود) رجوع کی گنجائش ہے اوربعداز عدت نکاح جدید کے ساتھ گھر پھر سے آباد کیاجاسکتا ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا، تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق اس کے بعد لڑکی اپنے میکے چلی آئی ایک سال تک خاوند نے رجوع نہیں کیا ،کیااب لڑکی آگے نکاح کرسکتی ہے؟ واضح رہے کہ چند ایک معزز گواہان کی موجودگی میں اس نے طلاق دینے کااقرار کیا ہے کتاب وسنت کی روشنی میں فتویٰ درکار ہے۔ جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورحکومت میں بیک وقت کی تین طلاق ایک رجعی شمارہوتی تھی۔ [صحیح مسلم، کتاب الطلاق: ۳۶۷۳] اسی طرح حضرت رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اسی طرح کاواقعہ پیش آیا کہ اس نے اپنی بیوی کوایک ہی مجلس میں تین دفعہ طلاق دے ڈالی تھی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک رجعی طلاق قراردیتے ہوئے رجوع کرنے کامشورہ دیاتھا۔چنانچہ انہوں نے اپنی بیوی سے دوبارہ رجوع کر لیا تھا۔ [مسند امام احمد،ص :۲۶۵،ج ۱] اس انداز سے طلاق دینے کے بعد خاوند کوحق ہے کہ دوران عدت رجوع کرے اگر عدت گزرجائے تونکاح ختم ہوجاتا ہے۔ پھر ولی کی اجازت ،عورت کی رضامندی ،حق مہر اورگواہوں کی موجودگی میں نیانکاح ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد باری تعالیٰ