کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 355
اورباعث لعنت ہے۔ اس شرعی نکاح کے بعد اگردوسرا خاوند فوت ہوجائے یاکسی وجہ سے عورت کوطلاق ہوجائے توعدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کویکے بعد دیگرے تین طلاق دیدی ہیں ،اب عام حالات میں رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔کیونکہ تیسری طلاق کے بعد بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی ہے۔ سسرال والوں کو وضع حمل کے بعد موصول ہونااس کے واقع ہونے پرکوئی اثرانداز نہیں ہوتا ،کیونکہ طلاق دیناخاوند کاحق ہے جواس نے استعمال کرلیا ہے۔ عورت کااسے قبول کرنایانہ کرنا اسے وضع حمل کے بعد موصول ہوناوقوع طلاق کے لئے شرط نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: اگرکسی عورت کاخاوند فوت ہوجائے اوراس کے دوگھرہوں اوروہ دونوں کچھ فاصلے پرہوں تووہ کس گھر میں عدت پوری کرے گی کیااسے دونوں گھروں میں آنے جانے کی اجازت ہے، کیونکہ وہ دونوں گھر اس کے اپنے ہیں؟ قرآن و حدیث سے راہنمائی کریں۔ جواب: جس عورت کا خاوندفوت ہوجائے ،اس کے اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے متعلق دوقول ہیں۔ان میں دلائل کے اعتبار سے مضبوط اورقوی موقف یہ ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں ہی عدت گزارے ،یعنی جس گھر میں اپنے خاوند کے ہمراہ رہائش پذیر تھی وہیں عدت کے ایام پورے کرے، جیسا کہ حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا میراخاوند اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا،انہوں نے موقع پاکر اسے قتل کردیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والدین کے ہاں منتقل ہونے کے متعلق دریافت کیا کیونکہ میرے شوہر نے اپنی ملکیت میں کوئی مکان نہیں چھوڑاتھا اورنہ ہی نان ونفقہ کاکوئی معقول بندوبست تھا۔ آپ نے مجھے اپنے میکے چلے جانے کی اجازت دی ،جب میںحجرے میں پہنچی توآپ نے مجھے آوازدی اورفرمایا کہ ’’تم اپنے پہلے مکان میں ہی رہو ،یہاں تک کہ تمہاری عدت پوری ہوجائے۔‘‘ حضرت فریعہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ پھر میں نے اپنی عدت کی مدت چارماہ دس دن اسی سابقہ مکان میں ہی پوری کی ۔ [ابوداؤد ،الطلاق:۲۳۰۰] صورت مسئولہ میں اگرخاوند کے دومکان ہیں تو بیوی کو چاہیے کہ وہ عدت گزارنے کے لئے اس مکان کاانتخاب کرے، جس میں وہ اپنے خاوند کے ہمراہ رہا کرتی تھی دونوں مکانوں میں بیک وقت رہائش نہیں رکھی جاسکتی بلکہ ایک مکان رہائش وغیرہ کے لئے اور دوسرا بطور ڈیرہ یا مہمان خانہ کے طور پر استعمال ہو گا اس لئے عدت کے لئے اس مکان میں رہائش رکھے جس میں وہ خاوند کے ہمراہ رہتی تھی۔ ہاں دوسرے مکان میں بوقت ضرورت جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ضروریات کوپوراکرنے کے لئے گھر سے باہر جانے کی شرعاًاجازت ہے لیکن رات گھر واپس آجاناچاہیے۔ وہ ضروری بات بھی ایسی ہو جو اس کے بغیر پوری نہ ہوسکتی ہو۔بہرحال بیوہ نے سوگ کے ایام نہایت سادگی کے ساتھ اپنے خاوند کے گھر میں گزارنے ہیں اوراسے شدید ضرورت کے بغیر گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: دوجوڑوں کانکاح وٹہ سٹہ کی بنیاد پر ہوا، پھر گھریلو حالات خراب ہونے سے دونوں لڑکیاں اپنے اپنے والدین کے ہاں چلی گئی اوران کاسامان بھی اٹھوادیاگیا۔ کچھ عرصہ بعد پھرصلح کے لئے پنچائت کااہتمام کیاگیا ۔وہاں ایک خاوند نے غصہ میں