کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 35
دور حاضر میں حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے فتاویٰ کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔ عہد صحابہ میں مدینہ، مکہ، کوفہ، بصرہ، شام اور مصر الغرض ہر جگہ کے باشندے مشکل مسائل میں جلیل القدر صحابہ کی طرف رجوع کر کے اپنی علمی تشنگی دور کرتے تھے، پھر تابعین اور تبع تابعین کے دور میں یہ منصب کبار علما کے سپرد رہا، ان حضرات میں حضرت سعید بن مسیب اور حضرت سعید بن جبیر تو صحابہ کرام کی موجودگی میں فتویٰ دیتے تھے چنانچہ مدینہ طیبہ میں صحابہ کرام کے تربیت یافتہ سات فقہا یہ ہیں۔ (۱) سعید بن مسیب (۲) عروہ بن زبیر (۳) قاسم بن محمد (۴) عبید اللہ بن عبداللہ (۵) خارجہ بن زید (۶) ابو بکر بن عبدالرحمن (۷) سلیمان بن یسار رحمہم اللہ پھر ان کا سلسلہ امام زہری اور امام ربیعہ سے گزرتا ہوا امام مالک اور ان کے تلامذہ تک پہنچتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے تلامذہ تھے، ان میں زیادہ مشہور حضرت عطاء، حضرت طائوس، حضرت مجاہد اور حضرت عکرمہ ہیں، ان کے بعد یہ سلسلہ سفیان بن عیینہ سے ہوتا ہوا امام شافعی اور ان کے شاگردوں تک منتہی ہوتا ہے۔ کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تربیت پانے والے بزرگ حضرات منصب افتا پر فائز تھے، ان میں حضرت علقمہ اور قاضی شریح نے شہرتِ دوام حاصل کی، ان کے بعد یہ سلسلہ ابراہیم نخعی پھر حماد کے ذریعے حضرت امام ابو حنیفہ اور ان کے تلامذہ نے جاری رکھا۔ بصرہ میں حسن بصری، ابن سیرین، قتادہ اور معمر بن راشد نے یہ فریضہ سر انجام دیا، شام میں ابو ادریس خولانی پھر امام مکحول، ان کے بعد امام اوزاعی اور ان کے تلامذہ نے یہ منصب سنبھالا، مصر میں یزید بن ابی حبیب اور ان کے بعد امام لیث بن سعد نے لوگوں کو فیض یاب کیا، ان کے علاوہ بغداد اور دیگر شہروں میں بہت سے علما لوگوں کو فتویٰ دیتے رہے، ان میں امام عبداللہ بن مبارک، امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ، امام ابو ثور اور امام ابن جریر طبری جیسے اساطین علم زیادہ مشہور ہوئے ان تمام حضرات نے یہ منہج اختیار کیا کہ کتاب و سنت کے مطابق فتویٰ دیتے تھے پھر کتاب و سنت کو سمجھنے کے لیے صحابہ کرام کے فہم کا اعتبار کرتے تھے کیونکہ صحابہ کرام ہی علوم نبوت کے حقیقی وارث تھے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ حضرت جابر بن زید سے کہا:’’ تم فقہائے بصرہ میں سے ہو اس لیے قرآن ناطق اور سنت ثابتہ کے بغیر فتویٰ نہ دیا کرو، اگر تم نے اس کی خلاف ورزی کی تو خود بھی ہلاک ہو جائو گے اور دوسروں کو بھی تباہ کرو گے۔ (سنن دارمی حدیث نمبر۱۶۶) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درج ذیل واقعہ سے بھی اس منہج پر خوب روشنی پڑتی ہے جو فتویٰ دینے کے متعلق سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس چند لوگ آئے انہوں نے سوال کیا کہ ہمارے خاندان کے ایک شخص نے کسی خاتون سے نکاح کیا ہے، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ وہ شخص فوت ہو گیا، عورت کا حق مہر بھی مقرر نہیں کیا گیا تھا، ایسے حالات میں کیا عورت