کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 344
معاملات کونبٹا یاجائے اورشریعت کادامن کسی وقت بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ [واللہ اعلم ] سوال: ایک شخص نے تحریری طورپر اپنی بیوی کوطلاق دی جواس نے وصول کرلی تقریباًدوماہ کے اندراندر مذکورہ شخص رجوع کے ارادہ سے اپنے ایک رشتہ دار کے ہمراہ سسرال کے شہرگیا لیکن لڑائی جھگڑ ے کے خدشہ کے پیش نظر سسرال کے ہاں خود جانے کے بجائے اپنے رشتہ دار کوبرائے مصالحت بھیج دیا اس وقت مصالحت نہ ہوسکی ،اب تقریباًچار سال بعد ہماری بیوی صلح پرآمادہ ہے اورایک ساتھ رہنے کے لئے تیار ہیں ۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ شخص کورجوع کافائدہ پہنچتا ہے یاانہیں دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت ہے ؟ جواب: ہمارے ہاں رجوع کے متعلق چندغلط فہمیاں ہیں، اس لئے پہلے رجوع کی حیثیت سمجھناضروری ہے، اس کے متعلق چندبنیادی باتیں حسب ذیل ہیں: 1۔ طلاق، رجوع دونوں خاوند کاحق ہیں سسرال یابیوی کاقبول کرنایااس پراپنی رضامندی کااظہار کرناضروری نہیں ہے۔ 2۔ رجعی طلاق دینے کی صورت میں اگر دوران عدت رجوع کاپروگرام بن جائے توسابقہ نکاح برقرار ہے۔ تجدیدنکاح کی قطعاًکوئی ضرورت نہیں ہے۔ 3۔ اگرعدت گزرنے کے بعد رجوع کاخیال آیا تواب تجدید نکاح سے رجوع ہوسکے گا کیونکہ پہلانکاح ختم ہوچکا ہے۔ اس صورت میں سرپرست کی اجازت ،بیوی کی رضامندی ضروری ہے حق مہر اورگواہوں کابھی ازسر نواہتمام کرناہوگا۔ 4۔ رجوع گفتگوسے بھی ہوسکتا ہے اوروظیفہ زوجیت اداکرنے سے بھی ،خلوت صحیحہ کامیسرآنابھی اس حکم میں ہے۔ بشرطیکہ رجوع کی نیت ہو۔ صورت مسئولہ میں اگر خاوند نے اپنے رشتہ دار کے سامنے رجوع کازبانی اظہار کیا ہے اوراپنے سسرال کے ہاں یہ کہہ کر بھیجا ہے کہ میں نے رجوع کرلیا ہے اس بنا پر میرے ساتھ صلح کی جائے تواس صورت میں اس کارجوع صحیح ہے، چونکہ یہ تحریک دوران عدت ہی چلائی گئی تھی، لہٰذانئے نکاح کی ضرورت نہیں ہے اگر اس کے برعکس اس نے زبانی طورپر اپنے رشتہ دار کے سامنے رجوع کااظہار نہیں کیا اورنہ ہی اس نے سسرال بھیجتے وقت اسے یہ ہدایت دی ہے تواس صورت میں رجوع نہیں ہوگا۔اب چونکہ عدت گزرنے کے بعد فریقین صلح پرآمادہ ہوئے ہیں، لہٰذا مؤخرالذکر صورت میں انہیں تجدیدنکاح کرناہوگا ،البتہ اول الذکرصورت میں پہلانکاح کافی ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہم نے اپنی بیٹی کے لئے تنسیخ نکاح کامقدمہ دائرکیاتھا عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دیدیا ہے اب کیا ہم اپنی بیٹی کا نکاح کسی دوسری جگہ کرسکتے ہیں؟ کتاب و سنت کے مطابق فتویٰ درکار ہے۔  شریعت اسلامیہ نے خاوند کواس بات کاپابند کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کونان ونفقہ اوردیگر ضروریات زندگی فراہم کرے اوراگروہ اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی اپنے اندرہمت نہیں پاتا تواچھے طریقے سے اسے چھوڑدے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم معروف طریقہ سے ان عورتوں کوگھروں میں رکھویااچھے طریقہ سے انہیں چھوڑدو‘‘۔ [۲/البقرہ:۲۳۱]