کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 342
میں شمار نہیں ہوئے۔ [صحیح بخاری ،المغازی :۴۴۱۸] اسی طرح طلاق کے نافذ ہونے کے اعتبار سے بھی اس کی دواقسام ہیں: 1۔ منجز: اس سے مراد ایسی طلاق ہے جوفی الفورنافذ ہوجائے، مثلاً: یوں کہاجائے کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں ۔ 2۔ معلق: جو فی الفورنافذالعمل نہ ہوبلکہ اسے کسی کام کے کرنے یاچھوڑنے پرمعلق کیا جائے، مثلاً: یوں کہاجائے کہ اگرتونے گھر سے باہرقدم رکھا توتجھے طلاق ہے۔ اس صورت میں جب بھی عورت گھر سے باہر قدم رکھے گی تواسے طلا ق ہوجائے گی لیکن اس سلسلہ میں یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ خاوند اپنی بیوی پرجوپابندی عائدکرتا ہے۔ ذہنی طورپر اس کی حدبندی کہاں تک ہے۔ بظاہر زندگی بھرکے لئے اس پریہ پابندی عائدکرنااس کامقصد نہیں ہے اورنہ ہی ایسا کہناکسی عقلمندآدمی کوزیب دیتا ہے۔ اگر ذہن میں طے شدہ وقت کے بعد پابندی کی خلاف ورزی ہوتوطلاق غیرمؤثر ہو گی۔ کیونکہ پابندی کاوقت گزرچکاہے اسی طرح معلق طلاق میں اگرپابندی کی خلاف ورزی سے پہلے پہلے اس شرط کوختم کردیاجائے توبھی خلاف ورزی کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ پابندی عائد کرنے والے نے خودہی اس پابندی کو ختم کر دیا ہے۔ سائل نے جس انداز سے اپنی بیوی کوجوالفاظ کہے ہیں، یعنی اگرتوآیندہ بچے کوگالیاں دے تومیری طرف سے فارغ ہے ۔سائل نے خودہی وضاحت کردی ہے کہ ان الفاظ سے قطعی طورپر طلاق کاارادہ نہیں تھابلکہ میں نے دھمکی کے طورپر یہ لفظ کہے تھے یہ الفاظ طلاق کنائی کاحکم رکھتے ہیں جوکہنے والے کی نیت پرمنحصر ہیں۔ لہٰذااس صورت میں اگر بیوی نے خلاف ورزی کی ہے توطلاق نہیں ہوگی کیونکہ اس نے طلاق کی نیت سے یہ الفاظ نہیں کہے تھے۔ دوسری صورت میں طلاق معلق میں اس نے صراحت کے ساتھ لفظ طلاق استعمال کیاہے اگر اس کی خلاف ورزی پائی جاتی تو قطعی طورپر طلاق واقع ہوجاتی لیکن اس نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے خلاف ورزی کرنے سے پہلے اس شرط کو ختم کر دیا، لہٰذا یہ معلق طلاق خودبخود غیر مؤثر ہو گئی، یعنی اس صورت میں بھی طلا ق نہیں ہوگی۔ تیسری صورت کنایہ کے الفاظ میں طلاق معلق ہے ۔سائل کی وضاحت کے مطابق اس کاطلاق دینے کاارادہ نہیں تھا ویسے بھی بیوی نے اپنارویہ صحیح کرلیا ،لہٰذا اس صورت میں بھی طلا ق نہیں ہوگی مختصر یہ ہے کہ ان تینوں میں طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ مسئلہ کی وضاحت کرنے کے بعد ہم پھر اپنی بات کودہراتے ہیں کہ زندگی کے اس بندھن کوکھیل اورتماشانہ بنایا جائے ،یہ کوئی بجلی کابلب نہیںجب چاہالگالیا اور جب چاہااتارلیا۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ مبارکہ کوپیش نظررکھنا ہوگا ۔ [واللہ اعلم] سوال: میں نے غصہ میں آکراپنی بیوی کودودفعہ طلاق کا لفظ کہہ دیا۔ جب تیسری دفعہ کہنے لگاتومیری بہن نے مجھے کہا کہ بھائی جان !کچھ سمجھ داری سے کام لو یہ کیاکہہ رہے ہو ،میں نے پھر کہہ دیا کہ میں اگر اسے اپنے گھر میں رکھوں تومیری ماں، بہن ہے یہ ساری باتیں غصے میں ہوئیں ۔قرآن وحدیث کے مطابق اب میرے لئے کیاحکم ہے ؟ جواب: واضح رہے کہ ہمارے معاشرے میں طلاق کامسئلہ انتہائی نزاکت کاحامل ہے، لیکن ہم اس قدر اس کے متعلق غیر محتاط واقع ہوتے ہیں کہ معمولی سی ناگواری کی بنا پر اپنی بیوی کوطلا ق،طلاق ،طلاق کہہ دیناایک عام رواج بن چکا ہے۔ طلاق دینا اگرچہ جائز اورحلال عمل ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی ناپسند یدگی کاباعث ہے، اگرچہ بعض دفعہ انسان اس قدر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس