کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 341
اہل علم سے اپنے استفسار کاجواب حاصل کرچکا تھا ۔میں نے بھی فون پراسے مطمئن کیا لیکن سب کچھ کرنے کے باوجود اس نے دو دفعہ اپنے خط کی کاپی بذریعہ کورئیر سروس ارسال کی ۔ان تمام مراحل سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل انتہائی جذباتی اورسیلانی طبیعت کا حامل ہے اورا س سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ وسواس زدہ اورشکوک و شبہات کاشکار ہے، ہمیں اس سلسلہ میں اپنے رویہ پرنظرثانی کرنا ہو گی۔ گھریلو عائلی زندگی کے متعلق ہم بہت افراط و تفریط کاشکارہیں بالخصوص اپنی اہلیہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے متعلق ہم فراخ دلی سے کام نہیں لیتے اگرکوئی بات اچھے انداز سے سمجھائی جاسکتی ہوتوہم بھی اسے جذباتی انداز میں کہنے کے عادی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عائلی زندگی کے متعلق فرماتے ہیں: ’’تم میں سے بہتروہ شخص ہے جواپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اورمیں اپنے گھروالوں کے ساتھ انتہائی خوش اخلاقی اورخندہ روئی سے پیش آتا ہوں ۔‘‘ لیکن بالعموم ہماری عادت یہ ہے کہ ہم گھر سے باہر بڑے خوش مزاج ہوتے ہیں۔ لیکن گھر کی چاردیواری میں داخل ہوتے ہی اپنی آنکھوں کوسرپررکھ لیتے ہیں جب کوئی گھر میں غصہ و ناراضی کی بات ہوتی ہے توہماری ترکش سے پہلا تیرطلاق کا برآمد ہوتا ہے، حالانکہ قرآن کریم نے طلاق سے پہلے کم ازکم چارپانچ مراحل کی نشاند ہی کی ہے جب صلح وآتشی کے تمام حربے ناکام ہو جائیں، پھر طلاق کاحربہ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ وہ اس اندازسے دی جائے کہ آیندہ باہمی مل بیٹھنے کے راستے مسدود نہ ہوں۔ ہم لوگوں نے طلاق کومذاق سمجھ رکھا ہے جب پانی سر سے گزرجاتاہے توپھر علما سے رابطہ کرنے کے لئے دوڑدھوپ شروع ہوتی ہے تاکہ کہیں سے تھوڑی بہت گنجائش مل جائے ۔ راقم نے مذکورہ سوال میں کانٹ چھانٹ کے بعد طباعت کے قابل بنایا ہے یہ خط بھی سائل کے منفی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ بشرط صحت سوال واضح ہوکہ طلاق کے الفاظ کہنے کے اعتبار سے اس کی دواقسام ہیں : ٭ طلاق صریح :واضح اوردوٹوک الفاظ میں استعمال کی جائے ،اسے طلاق صریح کہتے ہیں۔اس میں انسان کے عزم اور ارادہ کودیکھاجاتاہے اوراس نے جانتے بوجھتے ہوئے اپنے ارادہ اختیار سے لفظ طلاق کواستعمال کیا ہے اگراس نے ہنسی مذاق میں یہ لفظ کہہ دیا تب بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ اس میں انسان کی نیت کوکوئی دخل نہیں ہوتا ہاں، اگر بھول کریاغیرارادی طورپر اس کے منہ سے یہ لفظ نکل گیا ہے توایساکہنے سے طلاق نہیں پڑتی ۔ ٭ طلاق کنائی :لفظ طلاق واضح طورپر استعمال نہ کیاجائے بلکہ اس کی جگہ اشارے اورکنایہ وغیرہ سے کام لیاگیا ہو،شاید تومیری طرف سے فارغ ہے۔ تیری میری بس توپکی پکی اپنے گھرچلی جا،میں نے تمہیں اپنے پاس نہیں رکھنا وغیرہ اس قسم کے الفاظ استعمال کرتے وقت انسان کی نیّت کودیکھا جاتا ہے اگر نیّت طلاق کی ہے توطلاق واقع ہوگی۔ بصورت دیگر نہیں کیونکہ بعض اوقات مذکورہ الفاظ بطوردھمکی استعمال ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنی منکوحہ ’’ابنتہ جون‘‘کوبایں الفاظ طلاق دی تھی تو اپنے گھر چلی جا۔‘‘ [صحیح بخاری ،الطلاق:۵۲۵۴] لیکن مذکورہ الفاظ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کوکہے تھے اوران کاارادہ طلاق دینے کانہیں تھا لہٰذا وہ طلاق