کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 340
کہ ہمارے ملک کے عائلی قوانین میں انہیں ناجائز قراردینے کاکوئی قانون نہیں ہے ۔ 6۔ ناجائز نکاح کرنے پراس جوڑے پرحدلگائی جاسکتی ہے جس کی تفصیل گزشتہ سطورمیں بیان کر دی گئی ہے لیکن حد لگانااسلامی حکومت کا کام ہے، ہم اس کے ذمہ دارنہیں ہیں۔ 7۔ ہم لوگ عام طورپرنکاح پڑھنے والے اوراس پرگواہی دینے والوں کوقابل گردن زدنی قرار دیتے ہیں حالانکہ ان ’’بے چاروں‘‘ کو صحیح صورت حال سے آگاہ ہی نہیں کیاجاتا ۔خود راقم کے ساتھ ایسا ہوا کہ ایک نکاح پڑھایا گیا اور بتایا گیا کہ لڑکی کنواری ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ لڑکی شادی شدہ تھی اور پہلے خاوند سے طلاق بھی نہیں لی گئی تھی ایسے حالات میں نکاح خواں کا کیاقصور ہے، ہاں، اگراس نے جانتے بوجھتے ہوئے یہ نکاح پڑھایا تونکاح خواں بھی جرم میں برابرکاشریک ہے ۔اسی طرح گواہوں کا معاملہ ہے۔ ایسا کرنے کے باوجود ان کے نکاحو ں پرکوئی اثر نہیں پڑتا ۔نکاح ختم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ خاوند طلاق دے یا وہ دین اسلام سے برگشتہ ہوجائے ۔مذکورہ صورت میں کوئی ایساکام نہیں ہواجس کی بنا پرنکاح خواں یاگواہوں کے نکاح کو کا لعدم قرار دیاجائے۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: میری شادی کو تقریباً دو سال ہوچکے ہیں اللہ تعالیٰ نے سال بعد ایک بیٹا عطافرمایاجب وہ اپنی والدہ، یعنی میری بیوی کوتنگ کرتا تووہ اسے گالیاں وغیرہ دے لیتی تھی ۔اس کارویہ میرے لئے انتہائی پریشانی کاباعث تھا۔ بالآخرایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تونے آیندہ بچے کوگالی دی تومیری طرف سے تو فار غ ہے۔ میرے یہ الفاظ کہنے سے طلاق کا قطعی ارادہ نہیں تھا اورنہ ہی میرے وہم وگمان میں تھا کہ بیوی کوفارغ کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے کچھ دنوں بعد اس نے، پھرگالی دی اور میرے ساتھ بدتمیزی کی، اس پر میں ناراض ہوگیا اوروہ مجھ سے معافی مانگنے لگی میں نے کہا کہ معافی کی ایک ہی صورت ہے کہ تم قرآن کریم پرہاتھ رکھ کرکہوکہ اگر میں نے آیندہ بچے کوگالی دی یابدتمیزی کی توآپ کی طرف سے مجھے طلاق ہے، چنانچہ اس نے قرآن پرہاتھ رکھ کر یہ الفاظ کہہ دیے، اس کے بعد مجھے پریشانی ہوئی تو میں نے قریبی مسجد کے خطیب سے اپنی پریشانی کاذکر کیا اس نے بتایا کہ جوبات تمہارے درمیان ہوئی ہے اسے ختم کر دو، چنانچہ میں نے گھر آکر اپنی شرط کوختم کردیااور اپنی بیوی سے بچے کوگالی دینے کی پابندی اٹھادی۔ میں نے اس بات کومختلف الفاظ میں اتنی باردھرایاکہ اس نے تنگ آ کربچے کوگالی دی اورمیرے ساتھ بدتمیزی بھی کر ڈالی پھراس کاموڈ بھی خراب رہنے لگا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگرتونے اپنارویہ درست نہ کیاتومیری طرف سے فارغ ہے، لیکن میری نیت طلاق کی نہ تھی ۔چنانچہ اس نے میری دھمکی کے بعد اپنارویہ صحیح کرلیا،اب دریافت طلب امریہ ہے کہ مذکورہ بالا ان تینوں صورتوں میں طلاق ہوجاتی ہے یانہیں؟ میں آج کل پریشان اورالجھن کاشکار ہوں ازراہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں مجھے مطمئن فرمائیں۔ جواب: راقم الحروف پچھلے دنوں بواسیرکے آپریشن کی وجہ سے تقریباًایک ما ہ تک صاحب فراش رہا ،اسی دوران ’’احکام و مسائل ‘‘ کے متعلق جوخطوط آئے ہیں ان پربیماری کی وجہ سے توجہ نہ دی جاسکی ،مندرجہ بالا سوال سے متعلق تین فل سکیپ صفحات پر مشتمل خط بھی اس دوران وصول ہوا ۔اس کے بعد سائل نے بذریعہ فون رابطہ کیااورباربار جواب کااصرار کرتا رہا، حالانکہ وہ متعدد