کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 338
دوسرے کی منکوحہ سے نکاح کرناحرام ہے۔ جب سبب امتناع ختم ہوجائے تونکاح کیا جا سکتا ہے، یعنی جب عورت کاخاوند فوت ہوجائے یاوہ اسے طلاق دیدے توعدت گزرنے کے بعد اس سے نکاح کیا جاسکتا ہے کیونکہ سبب امتناع ختم ہوچکا ہے اس تفصیل کے بعد جب ہم صورت مسئولہ کاجائزہ لیتے ہیں تواس نکاح ثانی میں سبب امتناع موجود ہے وہ یہ کہ خالہ کی موجودگی میں بھانجی سے نکاح نہیں ہوسکتا، چنانچہ حدیث میں ہے: سیدناجابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کی موجودگی میں اس کی پھوپھی یااس کی خالہ سے نکاح کرناممنوع قراردیا ہے۔ [صحیح بخاری ،النکاح:۵۱۰۸] نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’بھانجی اور خالہ، نیزبھتیجی اورپھوپھی کوبیک وقت نکاح میں جمع نہیں کیاجاسکتا ۔‘‘ [صحیح بخاری ،النکاح :۵۱۰۹] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ حکم امتناعی تقریباًپندرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے اور خوارج کے ایک گروہ کے علاوہ اس قسم کے نکاح کے حرام ہونے پر امت کااتفاق ہے۔ [فتح الباری، ص: ۲۰۲،ج ۹] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان ہے کہ اگر تم نے ایسا نکاح کیاتوقطع رحمی کے مرتکب ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان، ص: ۱۶۶، ج ۶حدیث: ۴۱۰۴] فقہائے امت نے اس قسم کے نکاح کے متعلق تین صورتیں بیان کی ہیں۔ 1۔ اگرخالہ اوربھانجی سے بیک وقت نکاح کیاگیاہے تودونوں نکاح باطل ہیں کیونکہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو درست قراردینے کی کوئی وجہ ترجیح موجود نہیں، جیسا کہ کسی عورت کابیک وقت دوآدمیوں سے نکاح کردیاجائے، اس صورت میں کسی سے بھی نکاح درست نہیں ہوگا ۔ 2۔ اگرایک سے پہلے اوردوسری سے بعدمیں نکاح ہوا ہے توپہلانکاح صحیح ہوگاکیونکہ اس کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے اوردوسرانکاح باطل ہوگاکیونکہ اس کے جواز کی کوئی دلیل نہیں بلکہ ناجائز ہونے کی دلیل موجود ہے کہ پہلے نکاح کی موجودگی میں دوسرانکاح شرعاًجائز ہی نہیں اوردوسرانکاح صرف اس صورت میں صحیح ہوسکتا تھا کہ پہلے نکاح کوختم کیاجاتا اورپہلی بیوی اپنی عدت گزارلیتی جبکہ ایسانہیں ہواتودوسرانکاح سرے سے باطل ہوگا ۔ 3۔ دونوں نکاح یکے بعددیگرے ہوئے ہوں لیکن اب معلوم نہیں پہلے کس سے ہوا اوربعد میں کس کواپنے عقد میں لایاگیا ، اس صورت میں بھی دونوں کواپنے سے الگ کرناہوگا۔اگر وہ چاہتا ہے کہ ایک کواپنے سے الگ کرکے دوسری سے تجدیدنکاح کرے تویہ اس کی صوابدید پرموقوف ہے اس کی تین صورتیں ممکن ہیں۔ (۱لف) نکاح کے بعد ان میں سے کسی کے ساتھ ابھی مباشرت کی نوبت نہیں آئی تواس صورت میں ایک الگ کرکے اسی وقت دوسری سے نکاح کرسکتا ہے۔ (ب) اگران میں سے ایک کے ساتھ دخول کرچکاہے اوراسے ہی اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے توجسے ابھی تک چھوانہیں اسے ایک