کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 337
لیکن اس نکاح کے لئے عورت کی رضامندی، سرپرست کی اجازت ،حق مہر کی تعیین اورگواہوں کاموجود ہوناضروری ہے، نیز رجوع کاحق پہلی اوردوسری طلاق کے بعد ہے ۔ 14۔ اگررجوع کاپروگرام نہیں ہے توعدت گزرنے کے بعد عورت خودبخود آزادہوجائے گی۔ اس کے لئے کسی مزید اقدام کی ضرورت نہیں ہے لیکن ایسے حالات میں اسے الزام تراشی یابدتمیزی سے رخصت نہ کیاجائے بلکہ اس سلسلہ میں اس کے جو حقوق ہیں انہیں فیاضی سے ادا کیاجائے ۔قرآن کریم نے ہدایت کی ہے کہ مطلقہ عورتوں کوبھی معروف طریقہ سے کچھ دے کر رخصت کرو ، ایسا کرنااہل تقویٰ کے لئے ضروری ہے ۔ [۲/البقرہ :۲۴۲] 15۔ اگرتیسری طلاق بھی دے دی جائے تورشتہ ازدواج ہمیشہ کے لئے منقطع ہوجاتا ہے، تاہم عورت کے لئے عدت گزارناضروری ہے لیکن عام حالات میں اس سے رجوع نہیں ہوسکے گا ۔اب رجوع کی صرف ایک صورت ہے کہ وہ عورت کسی سازش کے طورپرنہیں بلکہ آباد ہونے کی نیت سے آگے کسی سے نکاح کرے اوروہ خاوند اس سے مجامعت کے بعد طلاق دے یا فوت ہوجائے توعدت طلاق یا عدت وفات گزارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح ہوسکتا ہے ۔ [۲/البقرہ :۲۳۰] 16۔ اگرعورت خاوند کی طرف سے بے اتفاقی کاشکار ہے اوروہ طلاق دے کر اسے فارغ بھی نہیں کرتا توایسی حالت میں عورت کواختیارہے کہ وہ بذریعہ عدالت اپنے خاوند سے علیحدگی اختیارکرسکتی ہے یاخود اس سے کوئی معاملہ طے کرکے طلاق حاصل کرلے، جیسا کہ خلع میں ہوتا ہے ۔ [۲/البقرہ :۲۲۹] سوال: ایک آدمی نے کسی عورت سے نکاح کیا،اس سے اولاد بھی پیدا ہوئی پھراس نے اپنی بیوی کوطلاق دیئے بغیر اس کی حقیقی بھانجی سے نکاح رچالیا اور اس سے بھی اولاد پیداہوئی ،اب خالہ اوربھانجی ایک ساتھ اس کے عقد میں ہیں ۔کتاب وسنت کی روشنی میں فتویٰ دیں کہ ایسا کرناجائز ہے یانہیں، اگرجائز نہیں توان میں سے کون سا نکاح باطل ہوگا، نیز ناجائز نکاح سے پیداہونے والی اولاد کے متعلق کیاحکم ہے کیاوہ اپنے باپ کی حقدار ہوگی کیاحقیقی اولادان کے خلاف قانون وراثت کے تحت تمام جائیداد کے وارث ہونے کادعویٰ کرسکتی ہے۔نا جائز نکاح کرنے پر اس جوڑے پرکوئی حدنافذہوگی اس قسم کانکاح پڑھنے والے اور اس پرگواہ بننے والے کے متعلق کیاحکم ہے؟ جواب: بشرط صحت سوال واضح ہوکہ وہ نکاح جوشرع کے عین مطابق ہواور جملہ ارکان وشرائط کی پابندی کے ساتھ بلاکسی شرعی مانع کے منعقد ہواہونکاح صحیح کہلائے گا۔ شریعت میں چارقسم کے ایسے موانع ہیں جن کی موجودگی میں نکاح کالعدم ہوتا ہے۔ 1۔ نسبی: اس سے مراد وہ موانع ہیں جوخون کے رشتہ سے پیداہوئے ہوں، مثلاً: ماں، بیٹی ،بہن اور خالہ وغیرہ۔ 2۔ رضاعی :اس سے مراد وہ موانع ہیں جوکسی اجنبی عورت کادودھ پینے کی بنا پر پیداہوئے ہوں، مثلاً :رضاعی بہن وغیرہ۔ 3۔ ازواجی :اس سے مراد وہ موانع ہیں جوکسی سے نکاح کی بنا پر پیداہوئے، مثلاً: بیوی کی ماں وغیرہ۔ 4۔ سببی :اس سے مراد وہ موانع ہیں جومختلف اسباب کی بنا پر پیداہوئے ہوں، مثلاً: دوران عدت نکاح کرنا۔ اس مؤخرالذکر موانع کی معتدد صورتیں ہیں ۔ان میں سبب امتناع کے دورہونے تک نکاح کرناجائز نہیں ہے، مثلاً: کسی