کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 336
٭ حالت حمل میں بھی طلاق دی جاسکتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ بات غلط مشہورہوچکی ہے کہ دوران حمل دی ہوئی طلاق نافذ نہیں ہوتی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طوپر فرمایا ہے کہ ’’اسے حالت طہر یاحالت حمل میں طلاق دو،یہ طلاق جائز اورمباح ہے۔‘‘ [صحیح مسلم ،الطلاق :۱۴۷۱] شریعت نے طلاق دینے کااختیار خاوند کودیا ہے عورت کویہ حق نہیں دیا کہ وہ خود کوطلاق دے تاکہ ناقصۃ العقل ہونے کی بنا پر فطرتی جلدبازی میں کسی معمولی سی بات پریہ اقدام نہ کربیٹھے ۔ 10۔ اگرخاوند نے اپنی بیوی کوطلاق دینے کاعزم کرلیا ہے توقرآن وحدیث کی ہدایات کے مطابق وہ صرف ایک طلاق دے، خواہ وہ تحریر کرکے یازبانی کہے ،اس کے بعد بیوی کواپنے حال پرچھوڑ دے تاکہ سوچ وبچار کے راستے بند نہ ہوں اورفریقین سنجیدگی اورمتانت کے ساتھ اپنے آخری اقدام پرغوروفکر کرسکیں ۔ایسے حالات میں بیک وقت تین طلاق دینے سے شریعت نے انتہائی کراہت کااظہار کیا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کوبیک وقت تین طلاق دے ڈالی تھیں توآپ نے فرمایا ’’میری موجودگی میں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلاجارہا ہے ۔‘‘آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ ایک آدمی آپ کااظہار ناراضی دیکھ کر کہنے لگا: یارسول اللہ! آپ مجھے اجازت دیں تاکہ میں اسے قتل کردوں۔ [نسائی ،الطلاق : ۳۴۳۰] تاہم ایسا اقدام کرنے سے ایک رجعی طلاق واقع ہوگی۔ [ابوداؤد ،الطلاق:۲۱۹۶] 11۔ ایک طلاق دینے کے بعد رشتہ ازدواج منقطع نہیں ہوتا بلکہ دوران عدت اگرزوجین میں سے کوئی فوت ہوجائے تو انہیں ایک دوسرے کی وراثت سے باقاعدہ حصہ ملتا ہے۔ بہرحال خاوند کوشریعت نے ہدایت کی ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالواورنہ خودنکلیں الایہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں۔‘‘ 12۔ طلاق کے بعد عورت نے عدت کے دن گزارنے ہیں جن کاشمار انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کی بنیاد پرکئی ایک نازک اورقانونی مسائل کاانحصار ہے۔ مختلف حالات کے پیش نظر عدت کے ایام بھی مختلف ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے: (الف) نکاح کے بعد اگر رخصتی عمل میں نہیں آتی توایسی عورت پرکوئی عدت نہیں ہے۔ [۳۳/الاحزاب :۴۹] (ب) مطلقہ بیوی اگرحمل سے ہوتواس کی عدت بچہ جنم دینے تک ہے ۔ [۶۵/الطلاق:۴] (ج) اگرحمل کے بغیر حیض منقطع ہے، یہ انقطاع بچپن ،بڑھاپے یابیماری کی وجہ سے ہوسکتا ہے توایسے حالات میں تین قمری مہینے عدت کے طورپر گزارناہوں گے اگرمہینوں کاشمار نہ ہوسکے تو90دن پورے کئے جائیں ۔اگرعورت کوایام آتے ہیں توتین حیض مکمل کرناہوں گے ایسی صورت حال کے پیش نظر تین ماہ یانوے دن پوراکرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ [۲/البقرہ:۲۲۸] 13۔ دوران عدت خاوند کویہ حق ہے کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے لیکن شرط یہ ہے کہ اسے بسانے اورآباد کرنے کی نیت ہواسے روک کرمزیداذیت پہنچانا مقصود نہ ہو۔ [۲/البقرہ:۳۲۸] اس رجوع کے لئے کسی قسم کے کفار ہ کی ضرورت نہیں ہے اگر عدت گزرجائے توبھی تجدید نکاح سے اپناگھر آباد کیاجاسکتا ہے ۔ [۲/البقرہ :۳۲۲]