کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 333
فتویٰ دینا ہے واضح ہوکہ طلاق کے نافذہونے کے اعتبار سے اس کی دواقسام ہیں : ٭ جوفی الفور نافذ ہو جائے، مثلاً: یوں کہاجائے کہ میں تجھے طلاق دیتاہوں۔ ٭ جوفی الفورنافذ نہ ہوبلکہ اسے کسی کام کے کرنے یاچھوڑنے پرمعلق کیاجائے، مثلاً: یوں کہاجائے کہ تونے گھرسے باہرقدم رکھاتو تجھے طلاق ہے۔ اس صورت میں عورت جب بھی گھر سے باہر قدم رکھے گی اسے طلاق ہوجائے گی ،لیکن اگرمعلق طلاق میں خلاف ورزی سے پہلے پہلے اس شرط کوختم کردیاجائے توپھر خلاف ورزی کی صورت میں طلاق نہیں ہوگی۔ کیونکہ پابندی عائد کرنے والے نے خودہی اس پابندی کوختم کردیا ہے۔ صورت مسئولہ میں دوباتیں قابل غورہیں۔ ایک توسب کچھ ختم ہونے کی وضاحت خودپابندی لگانے والے کی ہے کہ اس سے مرادوقتی بائیکاٹ اورکچھ وقت کے لئے بول چال ختم کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس سے قطعی طورپرطلاق دینامراد نہیں ہے۔ اس وضاحت کے بعداگر پابندی نہ بھی ختم کی جاتی توبھی خلاف ورزی کی صورت میں طلاق نہیں ہوناتھی ۔دوسری بات یہ ہے کہ پابندی لگانے والے نے خلاف ورزی سے قبل خود اسے واپس لے لیا ہے اوراسے ختم کردیا ہے اس صورت میں خلاف ورزی کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا، لہٰذاسائلہ خاوند کی طرف سے لگائی گئی پابندی سے آزاد ہے۔ نوٹ:نکاح، طلاق اوروراثت سے متعلقہ سوال کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ایڈریس یا کم ازکم فون نمبر سے ضرور مطلع کیاکریں تاکہ ہمیں بوقت ضرورت رابطہ کرنے میں آسانی رہے ۔اس کے علاوہ ادارہ ’’اہل حدیث ‘‘کی طرف سے خریداری نمبرکاحوالہ بھی ضروری ہے۔ بصورت دیگر سوال کے جواب میں التوا یاتاخیرہوسکتی ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: اہل حدیث رسالہ میں اکثر طلاق وغیرہ کے فتاویٰ ہوتے ہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں طلاق کے متعلق جامع ہدایات کیا ہیں؟ تاکہ اس اہم معاشرتی مسئلہ کے متعلق ہمیں آگاہی حاصل ہو۔ جواب: اس میں شک نہیں کہ ہم پڑھے لکھے اورتعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نکاح وطلاق کے اکثر مسائل سے ناواقف ہیں، حالانکہ ان مسائل کا تعلق روزمرہ زندگی سے ہے۔ ہمارادین ایک نظام زندگی پرمشتمل ہے، یعنی زندگی کاکوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کاحل اس میں موجود نہ ہو۔جبکہ باقی ادیان وقتی طورپراورایک خاص قوم کے لئے تھے۔ یہودی مذہب میں خاوند کو صرف تحریر ی شکل میں اپنی بیوی کوطلاق دینے کاحق ہے۔ اس کے بغیر زبانی طلاق دینے کی اجازت نہیں ہے، نیز طلاق کے بعد خاوند کو اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہے اس کے برعکس عیسائی اورہندومذہب میں انتہائی سنگین حالات کے پیش نظر بھی خاوند کوطلاق دینے کااختیارنہیں جبکہ دین اسلام میں اس قسم کی افراط وتفریط سے بالاترہوکراعتدال پرمبنی راستہ اختیار کیاگیا ہے اگرہم اس پرعمل پیراہیں توزندگی کے کسی موڑ پر ہمیں پریشانی کاسامنانہیں کرناپڑتا ،اس اعتدال کی تفصیل حسب ذیل ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے اس رشتہ ازدواج کواپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قراردیا ہے، پھرخاوند کوبیوی کے لئے اوربیوی کو خاوند کے لئے سکون واطمینان کاذریعہ بنایا ہے۔ اس طرح کہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے طالب بھی ہیں اور مطلوب بھی اوردونوں میں اس قدرمحبت رکھ دی کہ وہ ایک دوسرے پرفدا ہونے کوتیارہوتے ہیں، اسی جذبہ فدائیت کانتیجہ ہے کہ دونوں اپنے مقدس رشتہ کوتازیست نبھانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ [۳۰/الروم :۲۱]