کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 330
نہیں ہے ۔اگرخاوند نے اپنی بیوی کومحض ڈرانے دھمکانے کے لئے یہ لفظ استعمال کیا ہے توسرے سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور اگرطلاق دینے کی نیت سے کہا توایساکہنے سے رجعی طلاق ہو جاتی ہے، اس طلاق کاحکم یہ ہے کہ عدت کے اندراندرتجدید نکاح کے بغیررجوع ہوسکتا ہے۔ صورت مسئولہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند نے وقوعہ کے اگلے دن ہی بیوی سے رجوع کرلیا جودرست اورجائز ہے، اب انہیں بیوی خاوند کے طورپر رہنے میں شرعاًکوئی حرج نہیں ہے، البتہ ہم اتنی وضاحت کردینا ضروری خیال کرتے ہیں کہ بیوی کوڈرانے دھمکانے کے لیے ایسا مبہم لفظ استعمال نہیں کرناچاہیے ۔جوباعث نزاع اور موجب اشتباہ ہو۔مذکورہ صورت میں بیوی اوراس کی دونوں بہنوں نے اسے طلاق ہی سمجھا، تاہم خاوند کی وضاحت سے یہ اشتباہ دورہوگیا۔ لیکن ایسا کرنادرست نہیں ہے۔ بہرحال طلاق کامعاملہ بہت نازک ہے خاوند کوچاہیے کہ وہ اپنے اس حق کواستعمال کرتے وقت خوب سوچ وبچار کرے ڈرانے دھمکانے کے لئے کوئی اورطریقہ بھی اختیارکیاجاسکتا ہے ۔اب بیوی خاوند کوچاہیے کہ آیندہ حزم اوراحتیاط اورخوش اسلوبی سے زندگی بسرکریں اور ایسی باتوں سے اجتناب کریں جونزاع کاباعث ہوں ۔ [واللہ اعلم] سوال: اگربیوی اپنی مرضی سے خاوند کے والدین کی خدمت نہ کرے توکیاخاونداپنی بیوی کواپنے والدین کی خدمت کے لئے مجبور کر سکتا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں فتویٰ دیں۔ جواب: انسان کے لئے دنیا میں اسلام کے بعد والدین کازندہ ہوناسب سے بڑی نعمت ہے اوران کاخوشگوار ہونا سعادت مندی کی علامت ہے ۔بیوی کوچاہیے کہ وہ خاوند کی طرح اس کے والدین کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی کوروانہ رکھے، اگرچہ قرآن وحدیث میں ان کی خدمت کرنے کے متعلق کوئی صریح نص موجود نہیں ہے، تاہم ایسے واضح اشارات ضرورملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بہوکواپنے سسرال کی خدمت کرناچاہیے اوریہ سسرال کاحق ہے ۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات کے لئے تشریف لائے تواس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر میں موجودنہیں تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام واپسی کے وقت اپنے لخت جگر کواپنی بہوکے متعلق طلاق دینے کااشارہ فرماگئے تھے، اس کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مطالبہ کے باوجودان کی خدمت نہیں کی تھی بلکہ ناشکری کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی نازیباکلمات کہے تھے ۔ [صحیح بخاری ،الانبیاء :۳۳۶۵] اسی طرح حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے جب ایک بیوہ سے شادی کی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کنواری سے شادی کرنے کی ترغیب دی ۔حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے شوہردیدہ کے انتخاب کی یہ وجہ بتائی کہ میرے والد گرامی غزوۂ احدمیں شہید ہوگئے ہیں اور پس ماندگان میں نولڑکیاں ہیں جن میں صرف تین شادی شدہ ہیں میں نہیں چاہتا کہ گھر میں ان جیسی کسی ناتجربہ کار کنواری کو لاؤں بلکہ میں نے تجربہ کار شوہر دیدہ سے شادی کی ہے تاکہ وہ ان کی کنگھی کرے اوران کاہر طرح سے خیال رکھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبات کی تصویب فرمائی۔ [صحیح بخاری ،المغازی :۴۰۵۲] اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے اپنی بہنوں کی خدمت کراسکتا ہے تووالدین کامقام بہنوں سے کہیں بڑھ کرہے۔ ان کے علاوہ اوربھی دلائل دیے جاسکتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند