کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 328
سے دوبارہ نکاح پڑھا دیاجائے خاص طورپر جبکہ اب صحت یاب اورباشعور ہے تاکہ آپس میں مل بیٹھنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ [واللہ اعلم ] سوال: میرے ایک دوست نے اپنی بیوی کوایک سال چارماہ قبل کاغذ پرتین بار طلاق لکھ کربھیج دی، اس کے بعد تحریری یازبانی کوئی طلاق نہیں دی اب وہ رجوع کرناچاہتا ہے، کتاب وسنت کے حوالے سے راہنمائی فرمائیں؟ جواب: ہمارے ہاں آج کل علم وعمل کے اعتبار سے دینی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ صبرو تحمل کے بجائے غصہ و اشتعال کا دور دورہ ہے۔ ذہنی پریشانیاں اس پر مستزاد ہیں۔ معمولی معمولی رنجش کی وجہ سے اپنی بیوی کوطلاق دے دینا عام معمول بن چکا ہے۔ دین سے ناواقفیت کی بنا پر اکٹھی تین طلاقیں دے دی جاتی ہیں، پھرجب غصہ دورہوتا ہے اورجذبات ٹھنڈے پڑجاتے ہیں تو مسئلہ پوچھنے کی ضرورت پیش آتی ہے، حالانکہ بیک وقت تین طلاق دیناشریعت میں انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاق دے ڈالیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی ناراضی کے عالم میں فرمایا: ’’تم نے میری موجودگی میں کتاب اللہ کے ساتھ کھیلناشروع کردیا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خفگی کودیکھ کرایک جاں نثار نے عرض کیا: یارسول اللہ! اگرآپ مجھے اجازت دیں تومیں اسے قتل نہ کردوں۔ [نسائی، الطلاق:۳۴۳۱] تاہم اس انداز سے طلاق دینے میں ایک رجعی طلاق ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت اورعمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی عہدحکومت میں ایک مجلس کی تین طلاق کوایک ہی شمار کیاجاتا تھا، پھرحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ’’جس کام میں لوگوں کوغوروفکر کرنے کی مہلت دی گئی تھی اس میں انہوں نے جلدبازی سے کام لیناشروع کر دیا ہے، اس بنا پر ان تینوں کونافذ کر دینا چاہیے، چنانچہ انہوں نے تینوں کوجاری کردیا۔‘‘ [صحیح مسلم ، الطلاق:۳۶۷۴] حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے علامہ اسماعیلی رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کایہ اجتہادی اقدام مصالح امت کے لئے تھا، تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی عمر کے آخر حصہ میں اس پرافسوس وندامت کااظہار کیااورخواہش فرمائی کہ کاش! میں اس طریقہ سے طلاق دینے کو حرام ٹھہرادیتا ۔ [اغاثۃ اللہفان، ص: ۳۰۲،ج ۱] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں بیک وقت تین طلاق دینے کوایک رجعی شمار کیا جاتا تھا، جیساکہ حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کوایک ہی سانس میں تین طلاقیں دیدیں، پھرانہیں بہت غم اورافسوس لاحق ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تو نے کس طرح طلاق دی تھی عرض کیا کہ میں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے ڈالی ہیں آپ نے فرمایا کہ ’’یہ توایک طلاق ہے اگرچاہوتوبیوی سے رجوع کرکے اپنا گھر آباد کر لو۔‘‘ چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا۔ [مسند امام احمد، ص: ۲۶۵،ج ۱] اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مسئلہ طلاق ثلاثہ کے متعلق یہ حدیث نص صریح کی طرح ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے جس کی اورکوئی تاویل نہیں کی جاسکتی۔ [فتح الباری، ص: ۳۶۲،ج ۹] ان دلائل کی بنا پر ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاق ایک ر جعی ہوتی ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :’’ہم نہیں جانتے کہ