کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 326
2۔ عدت گزرنے کے بعد تجدید نکاح کے ساتھ ۔ اگرتیسری طلاق بھی دیدی جائے تورجوع کاحق ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اگرشوہر (دو طلاقوں کے بعد) اپنی بیوی کو تیسری طلاق دیدے تواس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اس (پہلے شوہر) پرحلال نہ ہوگی ۔‘‘ [۲/البقرہ: ۲۳۰] واضح رہے کہ اس آیت میں نکاح سے مراد وظیفہ زوجیت ادا کرنا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ مذکورہ نکاح بھی گھر بسانے کی نیت سے کیاجائے ،عارضی یامشروط نکاح نہ ہو، جیساکہ ہمارے ہاں بدنام زمانہ ’’حلالہ ‘‘کیاجاتا ہے کیونکہ ایسا کرناشرعاًحرام ہے۔ اگر دوسرا خاوند فوت ہوجائے یاوہ بھی کسی وجہ سے اسے طلاق دیدے توعدت گزرنے کے بعدوہ عورت پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے، صورت مسئولہ میں چونکہ ماہ بماہ تین طلاقیں ہوچکی ہیں۔ اس بنا پر اس عورت کاعام حالات میں پہلے خاوند سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ [واللہ اعلم ] سوال: میرے خاوند نے مجھے متعددمرتبہ طلاق دی ،پھربرادری کے دباؤ پرصلح کرتے رہے، میری یادداشت کے مطابق کم ازکم دس مرتبہ ایساہوچکا ہے۔ اب اس نے پھر مجھے طلاق دے دی ہے برادری میرے والد کوصلح پرمجبور کر رہی ہے جبکہ مجھے علم ہوا ہے کہ اب ایسا کرناگناہ کی زندگی گزارنے کے مترادف ہے، اس سلسلہ میں راہنمائی فرمائیں؟ جواب: ہمارے اس ترقی یافتہ دور میں جہالت کی انتہا ہے کہ ہمیں روزمرہ کے دینی مسائل کاعلم نہیں ہے۔ قرآن کریم کے مطابق خاوند کوزندگی میں صرف تین طلاقیں دینے کااختیار ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’طلاق (رجعی) دوبار ہے، پھریاتوسیدھی طرح سے اسے اپنے پاس رکھاجائے یابھلے طریقہ سے اسے رخصت کردیا جائے ۔‘‘ [۲/البقرہ:۲۲۸] دورجاہلیت میں مرد کولاتعداد طلاق دینے کاحق تھا مرد جب بگڑجاتا تواپنی بیوی کوطلاق دے دیتا، پھردوران عدت رجوع کرلیتا اس طرح لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ،نہ اسے اچھی طرح اپنے پاس رکھتا اور نہ ہی اسے آزاد کرتا کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرسکے ،آیت کریمہ میں اس معاشرتی برائی کاسدباب کیاگیا ہے اورمردکو صرف دوبار طلاق دینے اور اس سے رجوع کرنے کا حق دیاگیا ہے تیسری طلاق کے بعد بیوی ہمیشہ کے لئے خاوند پرحرام ہوجاتی ہے اورعام حالات میں رجوع کرنے کاکوئی اختیار نہیں رہتا ۔صورت مسئولہ میں بیوی ،خاوند اس کے والدین اورپوری برادری جہالت کاشکار ہے ۔اب بیوی کسی صورت میں خاوند کے لئے حلال نہیں ہے اگربرادری کے دباؤ پرپہلے کی طرح ’’رجوع ‘‘کیا توواقعی یہ گناہ کی زندگی گزارنے کے مترادف ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک شخص نے اپنی ہمشیرہ کانکاح کسی سے کردیا ،ہمشیر ہ کے فوت ہونے کے بعد اس کاخاوند کسی دوسری عورت سے شادی کرناچاہتا ہے اوراس سے اولاد بھی پیداہوجاتی ہے ،اب کیا پہلا آدمی اپنے بہنوئی کی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے جوبہنوئی کی دوسری بیوی سے پیداہوتی ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے چندایک خونی، رضاعی اورسسرالی رشتوں کاذکر کیا ہے جن سے نکاح نہیں کیا جاسکتا، ان کوتفصیل سے ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ’’مذکورہ محرمات کے علاوہ دوسری عورتیں تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں۔‘‘[۴/النساء: ۲۴]