کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 323
غصہ دیوانگی کی حد تک نہیں پہنچتا ۔اس حالت میں طلاق دہندہ کومرفوع القلم قرار دیاجائے ۔لہٰذا اگرغیظ وغضب اس حدتک پہنچ جائے جوانتہائی حالت میں بیان ہوا ہے کہ انسان اپنے آپ سے باہر ہوجائے اوراس کے ہوش وحواس بالکل قائم نہ رہ سکیں ۔یہاں تک اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ میرے منہ سے کیانکلا ہے اوراس کا انجام کیاہوگا ۔توایسی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوگی ۔مگر غصے کی یہ انتہائی حالت شاذونادرہی ہوتی ہے اورایسا بہت کم ہوتا ہے ۔ اس تفصیل کے پیش نظر جب صورت مسئولہ کے ظاہری الفاظ کودیکھاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ طلاق دہندہ طلاق دیتے وقت انتہائی غصے کی حالت میں تھا ۔اس حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔لیکن آیا وہ حقیقتاً ایساہی تھا تویہ طلاق دینے والا ہی بہتر جانتا ہے ۔لہٰذا اسے خود سوچنا چاہیے کہ میں طلاق دیتے وقت کس حالت میں تھا ۔حقیقت حال کے خلاف الفاظ تحریر کرکے فتویٰ لے لینے سے حرام شدہ چیز حلال نہیں ہوگی ۔حلال وحرام کے معاملہ میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے ۔اگرواقعی طلاق دہندہ نے غصے کی انتہائی حالت میں طلاق دی ہے اس کے ہوش وحواس قائم نہیں تھے تواس صورت میں سرے سے طلاق واقع نہیں ہوگی اور اگرغصہ کی ابتدائی یادرمیانی حالت ہے توطلاق واقع ہوجائے گی ۔بالخصوص جبکہ وہ کئی بارایساکرچکا ہے، جیسا کہ سوال میں ذکر ہے تووہ اپنی بیوی سے ہمیشہ کے لئے ہاتھ دھوبیٹھا ہے ۔بشرطیکہ طلاق دینے کامعاملہ مختلف مواقع میں پیش آیا ہو ۔اب عام حالت میں صلح کی کوئی صورت نہیں ہے اوراگر ایک ہی مجلس میں ایساہوا ہے توایک طلاق ہوگی اورعدت کے اندراندر رجوع ہوسکے گااگر دو دفعہ ایساہواتوبھی رجوع کاحق باقی ہے ۔لیکن تیسری دفعہ ایساکرنے سے رجوع کاحق ختم ہوجاتا ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک عورت کواس کے خاوند نے طلاق دیدی جبکہ وہ حاملہ تھی۔ تقریباًطلاق کے ڈیڑھ ماہ بعد وضع حمل ہوا۔ کیارجوع ممکن ہے اگررجوع ممکن نہیں تودوران عدت اپنے اخراجات اوربچے کی پیدائش کاخرچہ لے سکتی ہے، نیز نوزائیدہ بچے کاذمہ دارکون ہے جبکہ والدہ اسے اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی۔ اس کے علاوہ نکاح کے وقت جوعورت کووالدین کی طرف سے سازوسامان دیاگیا تھا یاخاوند کوسسرال کی طرف سے جوتحائف دیے گئے تھے ،ان کی واپسی کا مطالبہ کرناشرعاًکیسا ہے؟ جواب: بشرط صحت سوال واضح ہو کہ اگرخاوند نے اپنی بیوی کورجعی طلاق دی ہے توعدت کے دوران اسے رجوع کرنے کاحق ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ان کے خاوند اگرصلح کرناچاہیں تودوران عدت اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حق دار ہیں‘‘ ۔ [۲/البقرہ :۲۲۸] اگرعدت گزرجائے توایک دوسری شکل ہوگی وہ یہ کہ اگربیوی آنے پرآمادہ ہوتونئے حق مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نکاح جدید ہوگا کیونکہ عدت کے گزرنے سے نکاح ختم ہوجاتا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے’: ’اور جب تم عورتوں کوطلاق دواوروہ اپنی عدت کوپہنچ جائیں توانہیں پہلے خاوند سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ وہ معروف طریقہ سے آپس میں نکاح کرنے پرراضی ہوں۔‘‘ [۲/البقرہ :۲۳۲] صورت مسئولہ میں عورت بوقت طلاق حاملہ تھی اورحاملہ مطلقہ کی عدت وضع حمل ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اورحمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے ۔‘‘ [۶۵/الطلاق:۴]