کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 322
سوال: ایک شخص نے شدیدغصہ کی حالت میں اپنی بیوی کوکئی بار طلاق کے لفظ کہے لیکن غصہ کی بنا پر اسے پتہ نہیں رہا کہ میں کیاکہہ رہا ہوں، البتہ ایسے شواہد ملتے ہیں کہ اس نے کہا ’’میں اپنی منکوحہ کوطلاق دیتا ہوں اورکچھ شواہد اس بات پر ہیں کہ اس نے یوں کہا: میرے گھرسے نکل جا، بصورت دیگر میں طلاق دے دوں گا ،بہرحال غصہ اس قدر شدید تھا کہ خاوند کوہوش نہ رہا کہ میں کیا کہہ رہاہوں اور کیا کر رہا ہوں، برائے مہربانی ہماری اس الجھن کو دور کر دیں؟ جواب: حالت غصہ میں دی ہوئی طلاق کے واقع ہونے یانہ ہونے کے متعلق علمائے امت کااختلاف ہے بعض کاخیال ہے کہ غصہ میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔کیونکہ حدیث میں ہے کہ بحالت اغلاق نہ طلاق ہوتی ہے اورنہ ہی غلام کوآزادی ملتی ہے۔ [ابو داؤد، الطلاق: ۲۱۹۳] اس حدیث میں آمد لفظ ’’اغلاق ‘‘کامعنی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے غضب منقول ہے۔ یعنی بحالت غصہ طلاق دینااور غلام کو آزادکرناشرعاًکوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اغلاق کایہی معنی کیاہے فرماتے ہیں ’’الاغلاق اظنہ فی الغضب‘‘ ابوداؤد کے بعض نسخوں میں بایں الفاظ عنوان قائم کیاگیا ہے: ’’باب الطلاق علی غضب‘‘یعنی ’’بحالت غصہ طلاق دینے کا بیان۔‘‘ ان حضرات کے نزدیک غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق نافذ نہیں ہوتی ۔جبکہ بعض دوسرے علمائے کرام کے ہاں بحالت غصہ دی ہوئی طلاق نافذہوجاتی ہے ۔ان کاموقف یہ ہے کہ رضا ورغبت اورخوشی سے کوئی بھی طلاق نہیں دیتا بلکہ حالات خراب ہونے پر غصہ کی حالت میں ہی طلاق دی جاتی ہے۔ اگر غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق کا اعتبار نہ کیا جائے تو کوئی بھی طلاق مؤثر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ہمیشہ طلاق حالت غصہ میں ہی دی جاتی ہے ۔امام ابن تیمیہ اورامام ابن قیم رحمہما اللہ نے اس موضوع پرذراتفصیل سے گفتگو کی ہے فرماتے ہیں کہ غصہ کی تین حالتیں ہوتی ہیں: 1۔ ابتدائی حالت: یہ وہ حالت ہے جس میں غصہ تو ہوتا ہے لیکن انسان کے ہوش وحواس قائم رہتے ہیں ،اس حالت میں دی ہوئی طلاق بالاتفاق ہوجاتی ہے ۔ 2۔ انتہائی حالت: یہ وہ حالت ہے جس میں شدید غصہ کی وجہ سے انسان کے ہوش وحواس قائم نہیں رہتے ۔اسے کوئی علم نہیں ہوتا کہ میں کیاکہہ رہاہوں یاکیا کررہاہوں ۔اس حالت میںدی ہوئی طلاق بالاتفاق نہیں ہوتی کیونکہ یہ ایک جنونی کیفیت ہے اور دیوانگی کی ایک صورت ہے اورمجنون اوردیوانہ مرفوع القلم ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ’’تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، ان میں سے ایک مجنون بھی ہے ۔‘‘ [مسند امام احمد:۶/۱۰۲] 3۔ درمیانی حالت :یہ وہ حالت ہے کہ غصہ کی وجہ سے عقل بالکل توزائل نہیں ہوتی، تاہم یہ غصہ اس کی قوت فکر پراس حدتک اثراندازضرورہوتا ہے کہ اس دوران کی ہوئی کوتاہی پربعد میں نادم ہوتا ہے۔ [زادالمعاد، فصل طلاق فی الاغلاق ] آخری صورت محل اختلاف ہے ۔امام ابن تیمیہ اورا مام ابن قیم رحمہما اللہ ودیگر حنابلہ کے نزدیک اس درمیانی حالت میں دی ہوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوتی۔ ان کی دلیل مذکورہ بالاحدیث میں ہے، جبکہ دوسرے اس درمیانی حالت میں دی ہوئی طلاق کونافذ خیال کرتے ہیں ۔ہمارے نزدیک موخرالذکر علماکاموقف ہی صحیح ہے ۔کیونکہ طلاق عموماًغصہ میں دی جاتی ہے اوردرمیانی حالت میں