کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 321
پرعمل کیا جائے) جبکہ وصیت جوکردی گئی ہے اسے پوراکیاجائے اورقرض جومیت کے ذمے ہے اس کی بھی ادائیگی کردی جائے بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو۔‘‘ [۴/النسآء :۱۲] اس مقام پرمفسرین نے لکھا ہے کہ وصیت میں ضرررسانی یہ ہے کہ ایسے طورپر وصیت کی جائے جس سے مستحق رشتہ داروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں یاکوئی ایسی چال چلے کہ جس سے مقصود اصل حقداروں کومحروم کرناہو۔حدیث میں ہے کہ ’’کسی کوبلاوجہ اپنی جائیداد سے محروم کرنااس قدرسنگین جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں ملنے والے حصے سے محروم کردیں گے۔‘‘ (بیہقی) اس بنا پر نافرمانی اورگستاخی جیسے انتہائی سنگین جرم کے باوجود اولادکواپنی جائیدادسے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ایک حدیث میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی بچے کوایک غلام عطیہ کے طورپر دیا ،اس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانا چاہاتوآپ نے فرمایا کہ ’’تو نے سب بچوں کوایک ایک غلام دیا ہے؟‘‘ صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ نہیں، اس پرآپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے معاملہ میں عدل و انصاف سے کام لو۔‘‘ [صحیح بخاری، الھبۃ: ۲۵۸۷] بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’اپنی اولاد کے درمیان مساوات کیا کرو۔‘‘ [بیہقی، کتاب الھبات] اگرچہ بعض علما نے یہ گنجائش نکالی ہے کہ باپ اولاد کے مخصوص حالات کے پیش نظر تقسیم میں تفاوت کر سکتا ہے، مثلاً: ایک لڑکا معذور ،اپاہج یابیمار ہے یاوہ طلب علم میں مصروف ہے لیکن انہوں نے ایسے حالات میں بھی دوسرے بھائیوں کی رضامندی کو ضروری قراردیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ باپ کوئی ایسااقدام نہ کرے جو بھائیوں کے درمیان دشمنی اور عداوت کاباعث ہو اور وہ اس کے کسی اقدام سے اس کی نافرمانی کاباعث بنیں۔ صورت مسئولہ میں بھی حالات کچھ اس قسم کے ہیں خرابی کی اصل وجہ یہی ہے کہ والد بڑے لڑکے کو محروم کرناچاہتا ہے اگراس نے بڑے لڑکے کو کلیتًا محروم کردیا تو اس سے مزید بگاڑ ہوگا ۔ممکن ہے کہ یہ بگاڑ چھوٹے بیٹے اورخودباپ کے لئے زندگی اورموت کامسئلہ بن جائے ۔ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ باپ فرمانبرداراورنافرمان کی تمیز کئے بغیر اپنی اولاد میں مساوات قائم رکھے ،شاید ایساکرنے سے نفرت وکدورت کی آگ بھسم ہوجائے گی اورباپ کی طرف سے عدل وانصاف پرمبنی فراخ دلی آپس میں دلوں کے ملادینے کاباعث ہو۔ممکن ہے کہ اس انصاف پسندی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کوئی اتفاق کی صورت پیداکردے گا۔ سوال کادوسراحصہ نافرمان بیوی کوطلاق دینے سے متعلق ہے ۔ ہمارے نزدیک ایسے معاملات میں جلدبازی سے کام نہیں لیناچاہیے ۔طلاق دینا اگرچہ مباح ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک نا پسندیدہ عمل بھی ہے ۔اگرحالات ایسے ہوں کہ نباہ کی کوئی صورت نہ ہو تواللہ تعالیٰ نے خاوند کواختیار دیا ہے کہ وہ اپنی نافرمان بیوی کو طلاق دے کراپنی زوجیت سے الگ کردے تاکہ اسے ذہنی کوفت سے نجات مل جائے ،عین ممکن ہے کہ بیوی اس لئے خدمت سے راہ فرار اختیارکرچکی ہو کہ وہ اولاد کے درمیان مساوات اور برابری دیکھنا چاہتی ہو۔لیکن خاوندگستاخ اورنافرمان اولاد کومحروم کردینے پر تلا ہوا ہو ۔ امید ہے کہ اولاد کے درمیان برابری کی تقسیم کرنے پر بیوی بھی فرمانبردار اورخدمت گزاربن جائے ،بہرحال ہمیں اولاد کے معاملہ میں اپنے رویے پرنظرثانی کرناہوگی اوراس سلسلہ میں روارکھی جانے والی زیادتی اورناہمواری کوختم کرناہوگا ۔ [واللہ اعلم بالصواب]