کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 320
کرسکتی ہے ۔یہ اس کا حق ہے جسے شریعت کسی بھی صورت میں پامال نہیں کرناچاہتی۔ مسئلہ کی وضاحت کے ساتھ ہم اس تلخ حقیقت کااظہار کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتے ،کہ بدقسمتی سے ہمار اشریعت سے تعلق صرف ذاتی مفادات کی حدتک ہے، چنانچہ صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت نے اپنے اخراجات کو پوراکرنے کے لئے جوطریقہ کار اپنایا وہ انتہائی قابل نفریں اورباعث لعنت ہے ۔ ایک غیرت مند آدمی اس بے حیائی کواپنے گھر کب گوارا کرسکتا ہے۔ہمارے نزدیک خاوند کازدوکوب کرنے کے بعد اسے گھرسے نکال دینے کایہ اقدام اس کی غیرت کاتقاضا تھا ،چنانچہ اس نے اپنے آپ پردیوث ہونے کادھبہ نہیں لگنے دیا ،جب سر پر مصیبت پڑی ہے توشریعت کی طرف توجہ کی گئی ہے حق تویہ تھا کہ جب خاوند اخراجات پورے نہیں کرتاتھا تواسی وقت شریعت کی طرف رجوع کیاجاتا یاعدالتی چارہ جوئی کے ذریعے اپناحق لیاجاتا ،لیکن شریعت کونظر انداز کرکے بدکاری اوربے حیائی کاراستہ اختیار کیاگیا ،اس طرح حالات مزیدخراب ہوگئے ،اب اس عورت کو سوچنا چاہیے کہ قرآن وسنت کی درج ذیل آیت کہیں اس پرتونہیں چسپاں ہو رہی ’’بدکارعورتیں بدکارمرد وں کے لئے فحش کار مرد فحش کار عورتوں کے لئے ہیں۔‘‘ [۲۴/النور:۲۶] عورت کو چاہیے کہ وہ اللہ کے حضور اپنے گناہ کی معافی مانگے اورآیندہ ایسااقدام نہ کرنے کاعز م کرے ،جس سے اس کی عزت و ناموس مجروح ہوتی ہو،تاکہ وہ کسی شریف آدمی کے لئے مزید رسوائی اورخرابی کاباعث نہ ہو ۔مختصر یہ ہے کہ عدالتی فیصلہ کے بعد وہ عدت گزارنے کی پابند ہے۔ اس کے بعد وہ نکاح ثانی کرنے میں آزاد ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: میرے دوبیٹے اوردوبیٹیاں ہیں۔ میں اپنی زندگی میں ان تمام کی شادیاں کرکے ان کے حقوق سے فارغ ہوچکاہوں، اب بڑے لڑکے نے میرے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی ہے ،میری بیوی بھی اس گستاخ اورنافرمان بیٹے کی ہم نواہے اور میری خدمت سے انکاری ہے۔ چھوٹابیٹا میرے ساتھ ہے میرے پاس کچھ جائیداد باقی ہے۔ بچیاں اپنی خوشی سے میرے چھوٹے بیٹے کے حق میں دستبردار ہوچکی ہیں۔ اب میں اپنے نافرمان بیٹے کواپنی جائیداد سے محروم کرناچاہتا ہوں کیامیں شرعاًایساکرسکتا ہوں، نیزان حالات میں جبکہ میری بیوی نے میراساتھ چھوڑدیا ہے کیا میں اسے طلاق دے سکتا ہوں ،مجھے قیامت کے دن اس کامواخذہ تونہیں ہوگا ۔ کتاب و سنت کی روشنی میں میری راہنمائی فرمائیں؟ جواب: واضح ہوکہ بلاشبہ اولادکاوالدین کے ساتھ اچھابرتاؤ نہ کرنااوران کاگستاخ ونافرمان ہوناکبیرہ گناہ ہے۔حدیث کے مطابق قیامت کے دن اس قسم کے نافرمان اورگستاخ بچے اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے محروم ہوں گے اورانہیں کسی بھی صورت میں پاکیزہ قرارنہیں دیاجائے گا بلکہ انہیں اس جرم کی پاداش میں اللہ کے ہاں دردناک عذاب سے دوچارہونا پڑے گا ۔ لیکن ان حالات کے باوجود والد کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی جائیداد سے محض نافرمان اورگستاخ ہونے کی وجہ سے کسی کو محروم کردے، جائیداد سے محرومی کے اسباب شریعت نے متعین کردیئے ہیں، مثلاً: کفر، قتل، ارتدادوغیرہ ، ان میں اولاد کانافرمان ہونا یاگستاخ ہوناکوئی ایسا سبب نہیں ہے جسے بنیاد بناکر اسے اپنی جائیدادسے محروم کیاجاسکے ۔قرآن کریم میں بیان ہے کہ ’’یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلاَدِکُمْ‘‘ فرما کرہرقسم کی اولاد کوضابطہ میراث میں شامل کیا ہے ۔البتہ جواولاد نص قطعی سے اس ضابطہ سے متصادم ہوگی اسے خارج قرار دیا جائے گا،جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے ۔ضابطہ میراث بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (ضابطہ میراث