کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 319
زیرسرپرست کے لئے مہر ووفا کے جذبات سے عاری ہے یااس کے مفادات کامحافظ نہیں ہے تووہ خودبخود حق ولایت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے، چنانچہ بعض روایات میں ’’ولی مرشد ‘‘کے الفاظ ملتے ہیں ۔ [بیہقی ،ص: ۱۲۴،ج ۷] جس کا مطلب یہ ہے کہ جوسرپرست ہمدردی کے جذبات سے سرشار ہووہی فریضہ نکاح کی اجازت کاحقدار ہے ۔بہرحال صورت مسئولہ میں بیان کردہ نکاح سرے سے منعقد نہیں ہوا کیونکہ حقیقی سرپرست کی اجازت کے بغیر ہواہے اوروہ اپنی بچی کے متعلق ہمدردی کے جذبات بھی رکھتا ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک عورت کاکسی شخص سے نکاح ہوا ،کچھ مدت کے بعد عورت کو پتہ چلا کہ اس کاخاوند ناکارہ ،جوئے باز اورفحش کارہے اوربیوی کے جملہ حقوق پوراکرنے سے بھی قاصرہے ،عورت نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے غیرشرعی دھندا شروع کردیا جس کی بنا پر بیوی اورخاوند کا ہمیشہ جھگڑارہنے لگا ،نوبت بایں جارسید کہ ایک دن مذکورہ خاوند نے اپنی بیوی کومارپیٹ کر اپنے گھرسے نکال دیا ،چنانچہ وہ اپنے والدین کے ہاں چلی گئی والدین نے صلح کی کوشش کی لیکن ناکام رہے ،بالآخر اس کی بیوی نے اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے عدالتی چارہ جوئی کی۔ بالآخر عدالت نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے عورت کے حق میں تنسیخ نکاح کا فیصلہ دے دیا ۔اب دریافت طلب امریہ ہے کہ وہ عورت عدالتی تنسیخ نکاح کے بعد آگے کسی اوردوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے؟ جواب: بشرط صحت سوال واضح ہو کہ ائمۂ کرام کا اس کے متعلق اختلاف ہے ۔بعض کاخیال ہے کہ عدالت کافیصلہ نافذ العمل ہے ،جبکہ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ عدالت مصالحت توکراسکتی ہے لیکن طلاق چونکہ خاوند کاحق ہے، اس لئے عدالت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ان کے ما بین تنسیخ نکاح کافیصلہ کرے۔ہماری ناقص رائے کے مطابق پہلے حضرات کاموقف صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ شریعت نے خاوندکو عورت کے متعلق معاشرت بالمعروف کاپابندکیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’تم ان سے دستورکے مطابق زندگی بسر کرو۔‘‘ [۴/النسآء :۱۹] اخراجات کی ادائیگی اوردیگر حقوق کی بجاآوری بھی خاوند کے ذمے ہے، جوصورت مسئولہ میں وہ پوری نہیں کررہا ،اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کوتکلیف دینے کی غرض سے گھروں میں روکے رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔فرمان الٰہی ہے: ’’تم انہیں تکلیف دینے کے لئے مت روکو کہ تم زیادتی کاارتکاب کرو۔ ‘‘ [۲/البقرہ :۲۳۱] ان حالات کے پیش نظر عورت اگرمجبور ہوکر عدالت کادروازہ کھٹکھٹاتی ہے تویہ اس کاحق ہے خاوند کوچاہیے تھا کہ وہ عدالت میں حاضر ہوکر اپنی صفائی پیش کرتا ،تاکہ عدالت کویک طرفہ کارروائی کرنے کاموقع نہ ملتا،اب دوہی صورتیں ہیں: 1۔ اپنے خلاف لگائے گئے الزمات کوصحیح سمجھتے ہوئے عدالت میں حاضر نہیں ہوا ۔ 2۔ وہ اپنی بیوی کواپنے گھربسانانہیں چاہتا ۔ دونوں صورتوں میں عدالت کافیصلہ صحیح اورنافذالعمل ہے۔ عدت گزارنے کے بعد عورت کسی بھی دوسرے آدمی سے نکاح