کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 317
تعلقات ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس سے دوخاندانوں میں دائمی طورپر نفرت اوردشمنی بھی پیداہوجاتی ہے۔ لہٰذا انسان کوچاہیے کہ اپنے حق طلاق کوبہت سوچ سمجھ کر استعمال کرے ،طلاق کوئی کھلونانہیں ہے کہ اسے کوئی ہاتھ میں لے کر کھیلنے کے لئے بیٹھ جائے۔ لیکن بعض اوقات انسان اس قدر مجبور ہوجاتا ہے کہ حق طلاق اس کے لئے ناگزیر ہوجاتا ہے اوریہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب میاں بیوی کے درمیان اختلاف اس قدرشدت اختیار کرجائیں کہ دونوں ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئیں، پھردونوں مل کرزندگی گزارنے پرکسی طرح بھی راضی نہ ہوں ،ایسے حالات میں طلاق دیناہی مناسب ہوتا ہے، تاہم اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو ضابطہ وضع فرمایا ہے اس پرعمل پیراہونے سے باہمی مل بیٹھنے کی گنجائش باقی رہتی ہے، یعنی ایک یادوطلاق دینے کی صورت میں اگر عدت گزربھی جائے توبھی مطلقہ عورت اور اس کے سابقہ شوہر کے درمیان باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر آدمی وقفہ وقفہ سے تین طلاق دے چکا ہو، جیسا کہ صورت مسئولہ میں ہے تونہ عدت کے اندررجوع ممکن ہے اورنہ عدت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے اِلاَّ یہ کہ عورت کانکاح کسی اورشخص سے ہواوروہ نکاح صحیح نوعیت کاہوسازشی نہ ہو، پھر دوسراشوہر اس سے مباشرت بھی کرچکا ہو،اس کے بعد وہ اسے طلاق دیدے ،یافوت ہوجائے تواس کے بعد اگرعورت اوراس کاسابق شوہر باہمی رضامندی سے ازسر نونکاح کرناچاہیں توعدت طلا ق یا عدت وفات کے بعد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوسکتے ہیں۔ صورت مسئولہ میں اگرچہ طلاق ملکی قوانین کے مطابق نہیں دی گئی، تاہم شرع کے اعتبار سے وہ نافذ ہوچکی ہے، اس بنا پر تین طلاق دینے کے بعد طلاق دہندہ پراس کی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی ہے۔ ملکی قوانین اگرشرعی قوانین سے متصادم نہ ہوں تو ان پرعمل ضروری ہے بصورت دیگر شرعی قوانین پرعمل ہوگا ۔ [واللہ اعلم] سوال: مسماۃ ’’ف‘‘کااپنے خاوند سے کسی بات پر جھگڑاہوا تووہ اپنے بیٹے اوردوبیٹیوں کولے کر گھرسے فرار ہوگئی ،پھراس نے اپنے بیٹے کوولی بناکر اپنے بھتیجے سے بیٹی کانکاح کردیا جبکہ حقیقی ولی لڑکی کاباپ موجود ہے ،اس نکاح کی شرعی حیثیت کیاہے؟ جواب: بیوی کاگھریلوجھگڑے کی وجہ سے اپنے بچوں کولے کر جانا انتہائی باغیانہ اقدام ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’اگرکسی عورت سے اس کاخاوند ناراض ہے تواس کے راضی ہونے تک فرشتے اس عورت پرلعنت کرتے رہتے ہیں۔‘‘ [صحیح مسلم، النکاح: ۱۴۳۶] ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے لئے اس کے خاوندکوجنت یاجہنم قرار دیا ہے یعنی اس کی اطاعت باعث جنت اورنافرمانی موجب جہنم ہے ۔ [مسند امام احمد، ص: ۳۴۱،ج ۴] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی بایں الفاظ وضاحت فرمائی ہے کہ’’ جب عورت نماز پنچگانہ اداکرتی ہے اوراپنے خاوند کی اطاعت کے ساتھ ساتھ عفت وپاکدامنی اختیارکرتی ہے توقیامت کے دن اسے اختیار دیاجائے کہ جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔‘‘ [مسندامام احمد، حدیث نمبر :۱۶۶۱] ان احادیث کے پیش نظر ہم اس عورت کونصیحت کرناضروری خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کولے کر اپنے گھرچلی جائے تاکہ دنیاکے ساتھ اس کی آخرت برباد نہ ہو ۔اس تمہیدی گزارش کے بعد مسئلہ کی وضاحت بایں طور پرہے کہ قرآن و حدیث میں